حضرت نے ان کو بارہ تسبىح کے ذکر کى اجازت دى۔
والد صاحب نے ان کا خط اور اپنا جواب حضرت بچھراىونى کو دکھاىا ۔ ان صاحب نے جوابى کارڈ لکھا تھا جو بہت پرانا ہونے کى وجہ سے بڑى مشکل سے پڑھا گىا۔
بخدمت قبلہ صاحب دامت برکاتہ ،السلام علىکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ!
گذارش آنکہ بہت عرصہ ہوا ہے جناب کى خدمت مىں عرىضہ نہ لکھا اس لئے بہت شرمندہ ہوں۔
جواب: حضرت والد صاحب نے خط کھىنچ کر جواب دىا مىرا تو حرج نہ تھا بلکہ مجھے تو فائدہ تھا۔جواب لکھنے اور سوچنے کا۔
عرض:۔جس کى ظاہرى وجہ تو اوّلاً والدہ کاتىرہ چودہ روز سخت بىمار رہنا پھر ہمشىرہ اور بھائى ىوسف اور عزىز رشىد کا بىمار ہونا ، بعدہ والد صاحب کا بىمار ہونا ، اور حقىقى وجہ سستى ہے اﷲتعالىٰ اس کو دور کرے، ہمىشہ کوشش کرتا ہوں پھر سستى نہ کروں گا ، پھر سستى ہوجاتى ہے۔
جواب:۔کوشش کے ہمراہ جُرمانہ مقرر کرىں۔سُستى کى وجہ کىا ہے ؟ مىرے سمجھ مىں تو سُستى کى وجہ بے توجہى اور عدم تعلق ہے اور سب سے بڑى وجہ ىہ ہے کہ آپ سمجھتے ہىں کہ مَىں عالم فاضل دىوبند وغىرہ کمالات رکھتا ہوں اور ىہ بے پڑھا جاہل انگرىزى تعلىم ىافتہ اور سرکارى ملازم ہے اس سے کىا اصلاح کراؤں اور مىں پھر کامل ہستى کا مرىد ہوں۔ اب مىں پوچھتا ہوں کہ اگر حضرت مولانا حسىن احمد