آدمى اپنے دوست کے دىن پر ہوتا ہے اس لئے ہر شخص کو اپنا استاد اور دوست دىکھ بھال کر بنانا چاہئے۔
تربىت السالک کى چھپائى
حضرت حکىم الامتؒ کے پاس جو اصلاحى خطوط آتے تھے اور ان مىں کوئى بات افادہ عام کى ہوتى ىا جواب افادہ عام کا ہوتا ان کو اىک رجسٹر مىں نقل کر لىا جاتا تھا۔لىکن اس شخص کا نام نہىں لکھا جاتا۔ ىہ مضامىن ”النور“ وغىرہ مىں قسط وار شائع بھى ہوئے۔ حضرت تھانوىؒ کا دل ىہ چاہتا تھا کہ کتابى صورت مىں بھى چھپ جائے۔ اس کے لئے حضرت مولانا عبد المجىد صاحب تىار ہوئے۔ کتاب چونکہ ذرا مشکل تھى اور عام فہم نہىں تھى اس لئے ىہ احتمال تھا شاىد جلدى نہ نکلے ، اور بڑى بھى کافى تھى ، بڑى تختى پر ہزار سے زائد صفحات تھے، رقم بھى کافى لگتى تھى اس لئے حضرت تھانوىؒ نے فرماىا اگر ىہ کتاب نہ نکلى تو حضرت بچھراىونىؒ نے فرماىا جو نکلے گى وہ ٹھىک ورنہ مىں اپنى زکوٰۃ مىں اس کو دىتا رہوں گا۔ پھر مولانا نےجہاں تک ان کى نظر تھى اچھے سے اچھے کاتب ان کى کتابت کے نمونہ منگائے اور حضرت کے سامنے رکھے۔ ہمارے حافظ محمد اىوب دہلوى ثم ملتانى ىہ بھى پاکستان مىں بڑے پائے کے کاتب تھے ان کے استاد کى کتابت حضرت کو پسند آئى۔ پھر انہوں نے ہى اس کتاب تربىت السالک کى کتابت خود کى۔ عمدگى آج بھى اس کے دىکھنے سے معلوم ہوجائے گى۔
جب ىہ کتاب تىار ہوئى تو حضرت تھانوىؒ نے اسے اپنے سر پر رکھ کر