لو اور ہتھکڑى نہ لگاؤ۔ پھر دو لاکھ کى پىشکش کى ، لىکن مىں نے کہا کہ مىں تمہىں ہتھکڑى لگا کر ضلع جھنگ لے جاؤں گا۔ اب مىں کہتا ہوں کہ اگر وہ سچا تھا اور اس کى توجہ بھى کامل تھى توہ اس موقع پر کہاں گئى۔
پىرسىدن شاہ سے دوسرى ملاقات
انہى پىر صاحب سىدن شاہ کا اىک اور قصہ ہے کہ ان کو مىں نے اىک افسر ڈاکٹر ظفر قىوم کے والد صاحب عبد القىوم خاں کے ہاں دىکھا۔ جن کو موچى والا تھانہ مىں دس نمبر بدمعاشوں کے چک نور محرم بلوچ مىں گورنمنٹ نے رکھا ہوا تھا۔ اور مىں ان کا مہمان تھا۔ وہاں ىہ پىر صاحب مع بہت سے افراد کے جو گھوڑوں پر سوار تھے ان سے ملنے آئے۔ انہوں نے باہر کرسىاں بچھا کر ان کو بٹھاىا ۔ مىرے ساتھ والى کرسى پر پىر صاحب بىٹھے ہوئے تھے۔ مىرے سامنے پىر صاحب نے اس افسر کو گھوڑوں کے کرتب دکھائے۔ پىر صاحب گھوڑوں کو اشارہ کرتے تو وہ ناچنے لگتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کى توجہ کچھ بھى نہ تھى بلکہ ىہ سدھائے ہوئے تھے ۔
ہم ابھى بىٹھے تھے اىک ملنگ کرسى کے نىچے سے آىا اور زبان سے ان کى جوتى کو ان کے پىر سے نکالا۔ جب جوتى نکل گئى تو ان تلووں کو زبان سے چاٹنے لگا۔ جب مىں نے اس طرف نظر کى تو مجھے بُرا لگا جس کو پىر صاحب نے بھى محسوس کىا۔ پىر صاحب نے وہى لات اس کے منہ پر مار دى جس سے اس کى زبان دونوں دانتوں کے درمىان آکر سخت زخمى ہوگئى، اور وہ مختلف آوازىں