والد صاحب فرماتے ہىں ان کى شلوار اور تہبند ہمىشہ نصف پنڈلى پر ہوتى تھى۔ والد صاحب تحرىر فرماتے ہىں۔
گھر والى کا نام ”احمدى“ تھا۔ دوبارہ اس کو 1923ء مىں مىٹرک مکمل کرنے کے بعد لاىا۔ان کا انتقال 1944ء،1363ء ىکم رمضان المبارک کو خانىوال مىں ہوا ۔ برادرم حاجى محمد ناظم کى ولادت مىں انتقال ہوا۔ رمضان شرىف کا مہىنہ اور زچگى کى موت شہادت کا درجہ حاصل ہوا۔مرحومہ کى عمرچالىس سال سے زائد تھى۔
چالىس سال کى عمر کے متعلق حدىث
حضرت عثمان سے رواىت ہے کہ رسول اﷲ نے فرماىاکہ : بندہ مومن جب چالىس کى عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اﷲتعالىٰ اس کا حساب آسان فرما دىتے ہىں۔
نکاح ثانى
احقر عبد الدىان سلىمى کى والدہ ماجدہ سےمئى ۱۹۴۶ء مىں ہوا۔ ىہ والد صاحب کى پہلى اہلىہ کى حقىقى بہن تھىں۔ نکاح کى تارىخ مئى 1946ء۔ لىکن ىہ نکاح قائم نہ رہ سکا اور معاملہ طلاق پر ختم ہوا۔
نکاحِ ثالث
ىہ نکاح ڈىرہ غازىخان کے اىک بہت بڑے عالم مولانا حفىظ اﷲصاحب (ىہ حضرت کشمىرى کے شاگرد تھے) مرحوم کى صاحبزادى سے ہوا۔ىہ بىوہ تھىں، دو بچے ان کے ساتھ آئے جن کى تربىت والد صاحب نے اپنے بچوں سے زىادہ بہتر