معرفت کا غلبہ ہوجائے ىا خوف خشىت کا۔ پھر اىسے شخص سے کسى قسم کا مفسدہ اور اىذا کبھى نہىں سرزد ہوسکتے۔ ىہى حقىقت ہے سىاست سلطانى اور رحمانى کى ۔ شعر
ہرچہ گىرد علتى علت شودکفر گىرد کامل ملت شودلىکن اس مفىد طرىق کى تروىج کىلئے بہت ہى قلىل لوگ متوجہ ہىں۔ ان قلىل کى بھى دو قسمىں ہىں : اىک وہ لوگ جو اس حقىقت کى تحصىل کى حامى اور حامل اور عامل ہىں۔ اور دوسرے وہ لوگ ہىں نہ حامل ہىں ، نہ عامل ہىں، نہ کامل ہىں۔ بلکہ محض اپنى تقرىروں اور تحرىر کو زور دار بنانے کىلئے اس حقىقت کا اظہار کرتے رہتے ہىں۔کوئى خدائى حکومت بنانى چاہتا ہے کوئى کچھ۔ مگر ان مىں اکثر و بىشتر لوگ اىسے ہوتے ہىں کہ وہ خدائى حکومت پر خود چلنے کے لئے تىار نہىں ہوتے۔ رہا بنانے کا سوال سو الحمد ﷲوہ تو بنى بنائى ہے ىہ بىچارے کىا بنائىں گے۔
خلافت و تصوّف کى حقىقت اور نو آموز خلفاء
فرماىا کہ خلافت کى اجازت دىنا جو صالحىن کا دستور ہے جىسے درسىات ختم کرنے کے بعد جو سند دىنے کا معمول ہے وہى اجازت دىنا اور بىعت و خلافت کا ہے۔ اس کے صرف ىہ معنىٰ ہىں کہ طالب علم مىں تقرىر اور تفہىم اور حصولِ تقوىٰ کى صلاحىت پىدا ہوگئى ہے۔ىہ معنىٰ نہىں کہ تکمىل ہوگئى ہے تکمىل تو آئندہ ہوتى رہے گى اگر طالب قصد کرے گا اور لگا رہے گا۔ اور ىہ لوگوں کى غلطى ہے کہ نو آموز خلفاء اور فارغ التحصىل طلباء کو ماہرىن اور تجربہ کار جىسا خىال کرتے ہىں۔