کے کمرے جو در اصل حضرت مفتى صاحب نے خانقاہ کے لئے بنائے تھے وہ کمرہ نمبر ۵ مجھے دے دىا۔ وہ کمرے صرف مولانا عبد الرحمن صاحب جس کو چاہتے تھے دىتے تھے ىا پھر کچھ اساتذہ کرام کو دىئے ہوئے تھے مطالعہ اور آرام کے لئے ۔ حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب نے تو پھر شفقت کى انتہا کر دى۔ اگر ان کى تفصىل لکھوں تو مستقل کتاب بن سکتى ہے۔ اﷲتعالىٰ مولانا کى قبر کو نور سے بھر دے ۔ آمىن ثم آمىن
شىخ المحدثىن حضرت مولانا ادرىس صاحب کاندھلوى ؒ کى احقر پر شفقت
حضرت مولانا احقر کے ساتھ بہت محبت سے پىش آتے تھے۔ سبق مىں حکم تھا پہلى لائن مىں بىٹھا کرو، اور ترمذى اور ہداىہ بھى ساتھ لانے کا حکم تھا۔ حضرت مولانا عصر کے بعد اور مغرب سے تقرىباً آدھا گھنٹہ پہلے مسجد مىں تشرىف لے آتے تھے۔ احقر جا کر حضرت کے پىر دبانے شروع کر دىتا۔ اىک دفعہ والد صاحب تشرىف لائے۔ حضرت سے ملاقات ہوئى حضرت والد صاحب کو ڈاکٹر صاحب نہىں کہتے تھے بلکہ مولوى صاحب کہتے تھے۔ فرمانے لگے تىرا بىٹا عصر کے بعد مىرے پىر دباتا ہے مجھے پىر دبانے کى عادت نہىں لىکن مىں اس کو منع نہىں کرتا کىونکہ ىہ تو اپنا ہے اﷲتعالىٰ حشر مىں بھى حضرت مولانا کے دامن کے ساتھ وابستہ رکھے۔