آگئى۔ ىہ آپ کا خلوص ہے۔ ورنہ تو جى مىں جىسا ہوں مىں خود نہىں جانتا ہوں ، بندہ آپ کى نظروں مىں حسىن نظر آتا ہے ورنہ ىہاں پر کىا رکھا ہے۔ مىرا تو اب جس روز سے حرمىن شرىفىن سے واپس آىا ہوں ہند مىں دل ہى نہىں لگتا اور سب سے محبت کم ہوگئى ہے اور ہوتى جارہى ہے۔ حتى کہ اپنى ذات سے بھى دعا فرما دىں اﷲتعالىٰ العزىز پھر وہاں پہنچا دىں اور واپس نہ لائىں۔ حضرت نواب صاحب کى خدمت مىں سلام عرض کر دىں۔عبد المجىد
لڑکى کى شادى مىں کھانے کى دعوت
کسى شخص نے حضرت الحاج عبد المجىد صاحب سے پوچھا : آپ جو کہا کرتے ہىں کہ لڑکى کى شادى مىں اہل شہر، اہل محلہ اور دىگر احباب کى دعوت کرنا ٹھىک نہىں ہے۔ ہم نے اصلاح الرسوم پڑھى اس مىں کہىں نہىں مِلا اور آپ ىہ بھى کہا کرتے ہىں کہ ہر مضمون اور ہر بات مولانا اشرف على تھانوىؒ تک پہنچاتے ہىں؟
اس کا جواب حضرت الحاج عبد المجىد صاحب نے ىہ دىا کہ مولانا اشرف على تھانوىؒ سے پہلے دو اور بزرگوں کا طرىقہ پىش کرتا ہوں، بعد مىں حضرت تھانوىؒ کے دو ملفوظ عرض کروں گا۔
حضرت مولانا عبد المجىد صاحب بچھراىونى لڑکى کى شادى مىں دعوت منظور نہىں فرماتے تھے اور فرماىا کرتے تھے کہ لڑکى کى شادى مىں کہىں دعوت شرىعت مىں نہىں ہے۔ حضور اکرم کى اپنى شادىوں مىں ولىمہ تو کئى جگہ