کىلئے پورا ہفتہ بلکہ دس ىوم آپ کو مل گئے اور فرض کام کے لئے وقت نہ ملا، عزىزوں کى بىمارى کا بہانہ ہوگىا، سستى ہوگئى۔معلوم ہوا کہ مىرے سے تعلق ہى نہىں۔ بس جى آپ مولوى صاحب ہىں مَىں ان پڑھ ، آپ کسى اہلِ علم سے تعلق اصلاح کا بناوىں وہاں سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ مىرى وقعت آپ کے قلب پر واقعى سچى ہے خدا کى قسم مىں کچھ نہىں ہوں مىرے اندر کوئى قابلىت نہىں۔
عرض:۔حضور کى خدمت مىں عرىضہ لکھنا کبھى چھوٹ جاتا ہے ۔ حضور سمجھتے ہوں کہ مولانا مدنى کى رہائى ہوگئى ہے اس لئے لکھنا چھوڑ دىا اگر اىسا ہوتا حضور کو اطلاع دىتا ہى نہىں۔ بلکہ سستى اور اپنى بے وقوفى و بد نصىبى ہے حضور معاف فرما دىں اور بندہ کے حق مىں دعا کرىں کہ اﷲتعالىٰ اپنا نام لىنے کى توفىق عناىت فرمائىں، آمىن۔کل سے باقاعدہ اپنے معمولات شروع کر دوں گا اور اطلاع دىتا رہوں گا۔
جواب:۔ابھى تک کر دوں گا۔
عرض:۔مولانا کى زىارت کرنے گىا تھا ، مصافحہ بھى باقاعدہ نصىب نہىں ہوسکا، گفتگو اور کلام تو دور کى بات ہے ۔ لوگوں کا انبوہ تھا کوئى نزدىک جانے نہىں دىتا تھا۔ اگر آپ کى اجازت ہو تو ان کى خدمت مىں عرىضہ لکھوں۔ مظفر گڑھ مىں تو لوگوں نے ہاتھ بھى ملانے نہىں دىا۔ اپنے مرىدوں کا خىال اسى طرح کرتے ہىں ، بىعت کرنے کا کىا فائدہ؟ فقط مشتاق
جواب:۔بزرگوں پر اعتراض کرنا ہمارا کام نہىں ، توبہ کىجئے۔
اىک صاحب کا حضرت بچھراىونى سے اصلاحى تعلق تھا، حضرت اس شخص