کھانے گئے ہوئے تھے۔ مىں نے سب سے پہلے جو بورڈ جہاں جہاں ہداىات کے آوىزاں تھے وہ سب پرھ لئے۔ نو وارد کے لئے مصافحہ کى اجازت تھى۔ حضرت کھانا کھانے کے بعد سہ درى مىں آکر بىٹھے ہى تھے کہ مىں نے حاضر ہو کر السلام علىکم کہا اور کہا مىں نو وارد ہوں، مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔ پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ مىں نے عرض کىا عبد المجىد نام ہے، رىواڑى کا رہنے والا ہوں۔ حضرت نے پوچھا مىر اکوئى خط لائے ہو۔ مىں نے کہا نہىں۔ ىہ تھانہ بھون کى پہلى حاضرى تھى جو 1943ء تک جارى رہى۔
ڈاکٹر کا لقب
مىرى ملازمت محکمہ صحت مىں تھى۔ مىں اس مىں انسپکٹر تھا۔ اىک بار تھانہ بھون حاضرى ہوئى تو حضرت مولانا عبد المجىد بچھراىونى نے خانقاہ والوں سے ڈاکٹر کہہ کر تعارف کراىا۔ خانقاہ مىں سب حضرات ڈاکٹر کے نام سے ہى احقر سے متعارف تھے۔
اىک دفعہ حضرت والاؒ کو اپنى آمد کے موقع پر اپنا تعارف کراىا”عبد المجىد رىواڑى والا“۔ تو حضرت نے فرماىا : ڈاکٹر صاحب؟ مىں نے کہا جى ہاں۔ مجلس خاص مىں پوچھ کر بىٹھنے کى اجازت تھى۔ احقر اجازت لىتا، فرماتے بىٹھ جاوىں۔ بعد مىں کئى بار سلام کے بعد نام بتانے لگتا تو فرما دىتے مىں نے پہچان لىا۔ الحمدﷲ! مىں اس کو اپنى بڑى سعادت اور کامىابى سمجھتا ہوں۔
حضرت والد صاحب کا اصلاحى تعلق حضرت تھانوىؒ سے مولانا عبد المجىد