مولانا خىر محمد صاحب نے جنازہ پڑھاىا۔ منظور آباد کے قبرستان مىں سائىں طور شاہ کے جوار مىں دفن ہوئى۔ والد صاحب نے پہلے اپنے لئے ان کے جوارمىں دفن کى وصىت کى تھى بعد مىں وہ وصىت تبدىل کر دى اور نواں شہر کى کر دى۔ وہاں جگہ بالکل نہىں تھى۔
سائىں طور شاہ
ىہ پہلے حضرت رائے پورى کے مرىد تھے۔ ان کے انتقال کے بعد تھانہ بھون آگئے اور خانقاہ مىں مکمل رہائش اختىار کى۔ جن کا متعلق حضرت مجذوب ؒ کا شعر ہے ؎
خانقاہ اشرفىہ مىں رہتے رہتے
ہوگئے سائىں طور شاہ سائىں نور شاہ
ان کى بہت سى کرامات ہىں۔ تقسىم کے بعد ىہ ملتان حضرت مولانا خىر محمد صاحب کے پاس تشرىف لے آئے اور وہىں پر انتقال ہوا۔
ان کى سن پىدائش جو والد صاحب نے لکھى ہے وہ ىکم رجب 1382ھ ۔ رات کو ىہ دونوں پىدا ہوئے۔ والد صاحب مولانا قادر بخش صاحب کے ساتھ حج پر جا رہے تھے ان کو رخصت کرنے سٹىشن پر گئے۔ سن عىسوى 1962ء دسمبر۔
حافظ عبد الخالق 10 جون 1960ء ىوم جمعہ صبح چار بجے 16 ذى الحجہ 1379ء کو پىدا ہوا۔ والد صاحب اور والدہ محترمہ جب 1961 مىں حج پر گئے اس کى عمر اىک تھى۔ اس کى خالہ کے سپرد کىا وہ اس کو اپنے ساتھ سمىنہ گئى تھىں۔