ادھر کہتا کہ نہىں دىں گے ،ادھر جب وقت آىا تو سامان کا سامان بھر دىا۔ اور پھر قرض لے کر بھر دىا۔ اب جو ہاشم کى لڑکى کى رخصتى ہوئى تو ماسٹر نے ىہ دے دىا۔ فلاں نے ىہ دے دىا۔ اب کىسے دے دىا کل کو ان کے کسى کى شادى ہوئى انہوں نے مانگ لىا تو پھر ىہ قرض ہوا۔ بس جو ہمارے پاس ہے ہم اپنى لڑکى کو ىہ دے سکتے ہىں تو گھر ہى اىسا تلاش کرو کہ اس مىں ناراضگى اور افسوس کى کوئى بات نہ ہو۔بس جو کچھ اس نے دے دىا بڑى خوشى سے دے دىا، لڑکى دے دى اس سے بڑھ کر کىا دے گا۔ اسى طرح سے اپنے دىنے کے متعلق صاف کہہ دو بھائى ہم تو اپنى لڑکى کو ىہ دے سکتے ہىں۔ ہمارے پاس تو ىہ ہے ، دو چار جوڑے اور صندوق وغىرہ۔ باقى ہمارے پاس مال وغىرہ نہىں ہے نہ ہم نقد دے سکتے ہىں اس پر اگر وہ شخص راضى ہو جائے تو اچھى بات ہے ۔ غرضىکہ ىہ لوگ جو دىکھتے ہىں کىا ملے گا تو خىر چھوڑ دو اس کو ملنا ملانا تو قسمت سے ہے اگر لڑکى اچھى آئى نماز کى پابند آئى ، دىن کى پابند آئى تو سب کچھ مل گىا۔ ىہاں پر تمہارى اماں اىسى بہوئىں لائى کہ نماز کىلئے بڑى بڑى لڑائىاں لڑنى پڑىں، اس کے بعد بہوئىں اىسى آئىں کہ ان کو نماز کے کہنے کى ضرورت ہى نہىں پڑى۔اسى طرح سے دىن دار گھر کا خىال کرىں ، پىسہ کا خىال نہ کرىں۔
اس کےبعد سمىانے کہا تھا ”ارى کىا کرے گى دن کے دن“ چار شعر ہىں مولانا دہلى والے نے تبلىغى جلسہ مىں پڑھے تھے اور فرماىا ىہ حضرت صابر کلىر شرىف والوں کے ہىں