کو تعوىذ لکھ دىں۔ ابا جى نے حکم کى تعمىل کرتے ہوئے تعوىذ لکھ دىا اور ان کا لڑکا برى ہوگىا۔ بعد مىں لوگوں نے کہا آپ کو تو حضرت نے خلافت دے دى۔
حضرت پھولپورىؒ کا قىام کافى عرصہ رہا۔ پھر واپس کراچى جانے کا پروگرام بنا۔ والد صاحب نے بھى ملتان تک کے سفر کى رفاقت کو غنىمت سمجھا، کىونکہ حضرت کا ڈبہ فرسٹ کلاس کا تھا اور پورا کمپاؤنڈ بک تھا۔ والد صاحب نے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لىااور اس ڈبہ مىں سوا ہونے لگے۔ اىک صاحب نے کہا ىہ مکمل بک ہے۔ دوسرے صاحب جو والد صاحب کو جانتے تھے انہوں نے حضرت سے والد صاحب کا تعارف کرانا چاہا ، صرف اتنا ہى کہا تھا ىہ بہت پکے تھانوى ہىں۔ حضرت پھولپورى نے فرماىا ان کو تم کىا جانو جن سے ان کا تعلق وہ کتنے پکے تھے ىعنى حضرت مولانا عبد المجىد صاحب۔
جامعہ مىں فىروز پور روڈ مىں والد صاحب کو اىک کوارٹر دىا گىا تھا۔ مدرسہ کا سالانہ جلسہ تھا۔ حضرت قارى محمد طىب صاحب اور دىگر حضرات تشرىف لائے ہوئے تھے۔ والد صاحب کے متعلقىن جو خاص طور پر ملتان سے مولانا عبد الرحىم ، حاجى انوار الہى صاحب تقرىباً ہر جمعرات کو اور ڈىرہ سے گوجرانوالہ سے بھى اکثر آتے رہتے ۔ حاجى انوار الہى ما شاء اﷲصاحب حىثىت آدمى تھے۔ وہ اپنے ساتھ اپنا بستر لائے ، اس مىں اىک خوبصورت کمبل بھى تھا۔ احقر نے والد صاحب سے کہنا شروع کىا اىسا کمبل ہم بھى لىں گے۔ پہلے تو خاموش رہے ، پھر مجھے ڈانٹا اور فرماىا کسى کى چىز کو دىکھ کر وىسى ہى چىز کا مطالبہ کرنا