ثابت ہے لىکن حضرت فاطمہ کى شادى پر کھانا کھلانا کہىں ثابت نہىں ، ولىمہ حضرت على کے ذمہ تھا۔ حضور اکرم نے کسى کو کھانا نہىں کھلاىا۔ غرضىکہ حضرت مولانا عبد المجىد صاحب بچھراىونىؒ لڑکى کى شادى مىں دعوت قبول نہىں کرتے تھے۔
مىں ىہ سوچا کرتا تھا کہ کوئى اىسا بزرگ عالم اور مِل جائے کہ جو ىہ فتوىٰ دے کہ لڑکى کى شادى مىں دعوت جائز نہىں۔ چنانچہ الحمدﷲ مولانا مفتى رشىد احمد لدھىانوى کراچى والے مِل گئے جنہوں نے اپنے اُستاد حضرت مفتى اعظم پاکستان مفتى محمد شفىع کے سامنے عىن موقع پر ىہ بات فرما کر حضرت مفتى اعظم سے گوىا اپنى بات کى تصدىق کرادى۔ ہوا ىوں کہ حضرت مولانا نور احمد صاحب سابق ناظم دار العلوم کراچى کى لڑکى جو حضرت مفتى اعظم کى نواسى تھىں بذرىعہ کارڈ لوگوں کو دعوت نکاح اور دعوت طعام کى اطلاع دى گئى تھى۔ حضرت مفتى رشىد احمد صاحب دار العلوم کراچى پہنچے جہاں ہزاروں کا اجتماع تھا جس مىں علماء اور شہر کے معززىن بھى شرىک تھے۔ اور حضرت مفتى اعظم بھى تشرىف فرما تھے۔ مفتى رشىد احمد کے پہنچنے پر لوگوں نے مفتى صاحب کو بىٹھنے کے لئے کہا تو مفتى رشىد احمد نے کہا کہ مىں شرکت کرنے نہىں آىا، اىک مسئلہ بتانے آىا ہوں کہ لڑکى کى شادى مىں دعوت طعام کا انتظام بھى ہے جىسا کہ کارڈ مىں ذکر کىا گىا ہے ۔
ىہاں کافى حضرات علماء موجود ہىں مجھے بتائىں کہ لڑکى کى شادى مىں