سے کہہ دىں تو ىہ کام ہوسکتا ہے۔ اگر آج حضرت والا زندہ ہوتے تو مىں ىہ خط ان سے لکھواتا“۔
والد صاحب اس خط کو لے کر لاہور جامعہ اشرفىہ نىلا گنبد حضرت مفتى صاحب کى خدمت مىں حاضر ہوئے۔ حضرت مفتى صاحب تو حضرت تھانوىؒ کے سچے عاشق، اس تحرىر اور خاص اس لفظ ”اگر آج حضرت زندہ ہوتے تو مىں ىہ سفارشى خط ان سے تحرىر کراتا“اس جملہ کو پڑھ کر مفتى صاحب پھڑکے۔ اور فرماىا فوراً تانگہ کا انتظام کرو۔ والد صاحب نے عرض کىا آپ تحرىر لکھ دىں تکلىف نہ فرمائىں۔ فرماىا اس تحرىر کے بعد مىرے لئے رُکنا مشکل ہے۔ حالانکہ حضرت مفتى صاحب چلنے سے معذور تھے ڈائرىکٹر پنجاب اچھرہ مىں رہتے تھے۔ وہاں حضرت مفتى صاحب تشرىف لے گئے۔ صاحب موصوف نے جب اپنے شىخ کو اچانک اپنے گھر دىکھا ننگے پاؤں دوڑے ہوئے آئے۔ حضرت نے ابا جى کا مسئلہ بتاىا ۔ انہوں نے بھى فرماىا اس کے لئے آپ نے تکلىف کىوں کى؟ اشارہ ہى کر دىا ہوتا تو ىہ کام ہوجاتا۔ فرماىا تمہىں کىا معلوم کس کا خط مىرے پاس آىا، رکنا مىرے بس مىں نہىں تھا۔ والد صاحب کا تبادلہ رک گىا۔
ىہ خط مولانا عبد الرحمٰن صاحب نے احقر کو دىا تھا۔ لىکن اس وقت وہ ملا نہىں۔ لىکن اس مضمون سے اندازہ لگاىا جا سکتا ہے حضرت مفتى صاحب کى نظر مىں حضرت بچھراىونى کى کتنى قدر اور مرتبہ تھا۔ موتى کى پہچان جوہرى ہى کر سکتا ہے۔
اﷲتعالىٰ ان دونوں حضرات بلکہ تىنوں حضرات کى قبروں کو نور سے بھر