ہوجائے۔ وہ دىنِ الٰہى مىں کسى قسم کا رخنہ دىکھنا پسند کر ہى نہىں سکتا۔ ىا اس ملعون کو نىست ونابود کر دىں گے ىا اپنى جان دے دے۔ پس جب ىہ بات مسلمانوں مىں پىدا ہوجاتى ہے جس کو حماىت دىن کہتے ہىں تو اﷲکى مدد اور رحمت بھى اىسے مسلمانوں پر چشمہ زند ہوجاتى ہىں۔ اور حورىں ان محبوباتِ الٰہى کا نظارہ کرتى ہىں اور بزبان کہتى ہىں ہم تمہارے لئے ہىں اور بہت روزوں سے انتظار کر رہى ہىں۔ دىکھو اگر تم نے پىچھے قدم اُٹھاىا اور اس کے دشمنوں سے ڈرے تو پھر نہ تم ہمارے اور نہ ہم تمہارے۔
اسى طرح اہلِ اىمان کے اور بھى بہت سے شعبے اور درجے ہىں جن کا اہل زمانہ کو نام بھى معلوم نہىں ؎
خوبى ہماں کرشمہ ناز و خرام نىست
بسىار شىوہ ہا ست بتاں را کہ نام نىست
محبوبىت کے اتنے شعبے ہىں کہ اہل ہوس کو ان کے نام بھى معلوم نہىں ، وہ محبوب کے ناز و خرام مىں ہى گم ہوجاتے ہىں۔
اہل تصوّف کے نزدىک اىمان کے شعبے
اىمان کے دو شعبے ہىں: محبت اور اعمالِ صالحہ۔
ىہ دونوں جب کمال درجہ مىں حاصل ہوجاتے ہىں تو اىمان کامل ہوجاتا ہے۔