ہے۔ ایک ہند سے جہاد کرے گی اور دوسری عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگی (اور کفار سے لڑائی کرے گی)}
یہ صحاح ستہ والوں کا مذہب ہے۔ محمد بن سیرین (بجلی آسمانی ج۱ ص۴۴) ’’اخرج ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن ابن بشر قال المہدی من ہذا الامۃ وھو الذی یصلے خلفہ عیسیٰ بن مریم‘‘ {یعنی امام مہدی اس امت سے ہوںگے اور امام مہدی وہ ہیں۔ جس کے پیچھے عیسیٰ بن مریم نماز پڑھیں گے۔}
اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام دو الگ الگ شخص ہیں۔ ابوداؤد طیالسی (کنزالعمال ج۷ ص۲۰۲) ’’اخرج ابوداؤد طیالسی فی مسندہ عن ابی ہریرۃؓ عن النبیﷺ قال لم یسلط علی الدجال الاعیسیٰ بن مریم‘‘ {یعنی بجز عیسیٰ علیہ السلام کے اور کوئی دجال کو قتل نہیں کرے گا۔}
ابوعبداﷲ محمد المعروف بحاکم عون ابودود (شرح ابی داؤد ج۴ ص۲۰۵) ’’اخرج الحاکم عن ابی ہریرۃ عن النبیﷺ قال لیہبطن عیسیٰ اماما مقسطاً‘‘ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام عادل ہوکر اتریں گے۔}
امام عبدالرزاق (درمنثور ج۶ ص۲۰) ’’اخرج عبدالرزاق عن قتادۃ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ علیہ السلام للساعۃ‘‘ {یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا علامات قیامت میں سے ہے۔}
ابن حاتم، ابن مردویہ، عبدبن حمید، سعد بن منصور، طبرانی (تفسیر درمنثور ج۶ ص۲۰) میں مذکور ہے کہ یہ (مفسرین) محدثین حضرت ابن عباسؓ سے آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر کرتے ہیں کہ قیامت کے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا نشانی قیامت سے ہے۔
ابونعیم (آسمانی بجلی ج۱ ص۴۸) ’’اخرج ابونعیم عن عبداﷲ بن مسعود فی الحدیث الطویل حتیٰ ینزل علیہم عیسیٰ بن مریم فیقاتلون مع الدجال‘‘ {یعنی مسلمان حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجال کا مقابلہ کریں گے۔}
اسحق بن بشیر ابن العساکر (کنزالعمال ج۷ ص۲۶۸) میں ہے۔ ’’اخرج اسحق بن بشیر وابن العساکر عن ابن عباسؓ عن النبیﷺ فیعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السمائ‘‘ {یعنی اس وقت عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے۔}