ناظرین! یہ حوالہ جات پڑھیں اور کسی نتیجہ تک ازخود پہنچیں اور اندازہ لگائیں کہ کیا یہ مسلمان کی شان ہوسکتی ہے؟ اور مرزاقادیانی نے خدائی قدر ت کے تاثرات زمین وآسمان وغیرہ جو بنائے ہیں کہاں ہیں؟
آنحضرتﷺ کا بارگاہ رب العزت میں مقام
حضرات باتمکین! جناب تاجدار مدینہ سردار امجد، بدر ابہر،نور مجسم، فیض مقسم، فخر موجودات، مفتخر کائنات، حبیب الہ الکائنین، رحمت اللعالمین، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰﷺ کو اس مالک کون ومکان، رب السماء والارض، منعم حقیقی، خالق تحقیقی، منبع عالم، مصدر خاتم جل جلالہ وعم نوالہ نے اپنے فضل جسیم وکرم عمیم سے بقعۂ عدم سے منصۂ ظہور میں جلوہ افروز فرمایا۔ وہ جو کسی نے پایا اسی در سے ہوکر پایا۔ جو ادھر سے محروم رہا۔ اس نے درحقیقت کچھ نہ پایا۔ جو کچھ بنایا آپ کے لئے بنایا۔ جو منظور خاطر آنحضور تھا۔ وہی پایا جملہ انبیاء علیہم السلام کا سردار بنایا اور ان کے واجب الوقار ہونے کا حکم سنایا۔ اس کی اطاعت کو اپنی اطاعت، اس کی محبت کو اپنی محبت، بلکہ ایمان آپ کی محبت کا نام بتایا۔ آپ کے قول وفعل کو ضروری اور واجب العمل اور اسوۂ حسنہ قرار دیا۔ آپ کے وطیرہ وطریقہ کو معیار ایمان وعلامت صداقت ایقان سنایا۔ آپ کی حرکت ونشست سیرت وخصلت کی اتباع کوموجب فلاح وخلاصی بتایا۔ آپ کے مخالف ومعاند کو مرتد، لعین، کافر، بے دین، ابوجہل، ابولہب کی مثل بنایا اور دوزخی قطعی ناری بنایا اور ابدی جہنمی قرار پایا۔ مگر مرزائی صاحبوں کے گھروں کے نبی ورسول ہیں۔ جو کچھ منہ میں آتا ہے کہتے چلے جارہے ہیں۔ نہ خوف خدا نہ شرم رسول مشہور ہے کہ بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔
اور تعجب یہ ہے کہ ساتھ ہی اپنے کو آنحضرتﷺ کا متبع، فدائی، امتی، آپ کے جملہ کمالات کا مظہر بھی کہے جاتے ہیں۔ ناظرین کے لئے چند ایک حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں۔ تاکہ دیکھیں اور اندازہ لگائیں۔ خیال فرمائیں کہ کیا ایسا آدمی مسلمان بھی ہوسکتا ہے؟ مزید برآہ یہ کہ اس کو نبی ورسول مجدد، ومحدث امام الزمان مہدی وموعود وغیرہ کہا جائے؟
انبیاء علیہم السلام کا دربار الٰہی میں مقام
ناظرین کرام! کون اس سے ناواقف ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا وجود پاک عالم کے لئے سراسر رحمت ہواکرتا ہے۔ ان کے ذریعہ سے اﷲتعالیٰ اپنی مخلوق کی حاجات کو پورا فرماتا ہے۔