حالانکہ حضور نبی آخرالزمانﷺ کل نسل انسانی کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ پھر بھی اس پر وحی ان کی قومی زبان عربی میں نازل ہوئی۔ جو بشکل قرآن ہم میں موجود ہے۔ بعض منافقین نے یہ کہا کہ حضورؐ کو کوئی غیر عرب عجمی یہ وحی سکھاتا ہے تو اﷲتعالیٰ نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں منکشف فرمایا: ’’ولقد نعلم انہم یقولٰون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی وہذا لسان عربی مبین (النحل:۱۰۳)‘‘ {اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے تو ایک انسان سکھاتا ہے۔ اس کی زبان جس کی طرف یہ (سکھانے کی) نسبت کرتے ہیں۔ عجمی ہے اور یہ فصیح عربی زبان ہے۔}
پس ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی نے مختلف زبانوں میں وحی والہام وضع کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور آئندہ کے لئے کذاب، مدعیان نبوت کے کذب وافتراء کو پرکھنے کے لئے جو کسوٹی اﷲتعالیٰ نے قائم کی۔ وہ خاتم النبیینﷺ کی حیات طیبہ ہے۔ جس کو کسوٹی اور نمونہ ٹھہراتے ہوئے خالق کائنات فرماتا ہے: ’’لقد کان لکم فی رسول اﷲ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب:۲۱)‘‘ {رسول اﷲﷺ کی حیات طیبہ تمہارے لئے نمونہ ہے۔}
حضورﷺ کل نسل انسانی کے پیغمبر، رسول، امام اور نبی ہیں۔ اگر ان پر وحی صرف اپنی قومی زبان ’’عربی‘‘ میں نازل ہوئی تو یہ ناممکن ہے کہ کسی پنجابی پر جس کا دعویٰ نبوت کا ہو۔ اس پر وحی عربی، فارسی، اردو، عبرانی، سنسکرت اور انگریزی میں آتی ہے۔ بلکہ یہ اس کے کذب کی نشانی ہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی اور تنسیخ جہاد
مرزاغلام احمد قادیانی جنگ آزادی ۱۸۵۷ء کے موقعہ پر سولہ سترہ سال کے نوجوان تھے۔ انگریزوں کی حکومت کے استحکام کے لئے ان کے والد مرزاغلام مرتضیٰ جو انگریزوں کے خیرخواہ تھے۔ انہوں نے ان تثلیث پرستوں کو پچاس آدمیوں اور گھوڑوں سے مدد دی۔ جس کے متعلق خود مرزاغلام احمد قادیانی معترف ہے۔ لکھے ہیں کہ ان کے والد نے: ’’مفسدہ ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگجو بہم پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔‘‘ (تحفہ قیصریہ ص۱۸، خزائن ج۱۲ ص۲۷۱)