کہ کشمیر اور قادیان میں۔ یہی ہے امام بخاری کا مذہب ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں سے اسی عقیدہ کے اظہار کے لئے باب ہی اسی عنوان سے شروع کیا ہے۔ (باب نزول عیسیٰ بن مریم) اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا چونکہ مذہب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام زندہ اٹھا لئے گئے اور قبل از قیامت بعینہ اتریں گے۔ اپنی صحیح بخاری میں اس آیت ’’واذ قال اﷲ یعیسیٰ اانت قلت‘‘ میں قال بمعنی یقول اور اذ کو صلہ یعنی زاہدہ دیا ہے اور کہا ہے یہ سوال وجواب قیامت میں ہوگا اور قال بمعنی یقول خلیفہ اوّل مرزاقادیانی مولوی نورالدین صاحب نے بھی لیا ہے۔ (مقدمہ اہل کتاب ص۱۷۸)
پس اس سے ثابت ہوا کہ آپ نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں آل عمران کے لفظ متوفیک کی تفسیر ممیتک کے ساتھ حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے نقل کی ہے۔ اس سے یہ ہرگز نہیں ثابت ہوتا کہ آپ کا مذہب وفات مسیح ہے۔ کیونکہ اوّل متوفیک سے تحقق موت کے معنی نکلتے ہی نہیں۔ دوسرا اس لئے کہ جب عبداﷲ بن عباسؓ کا مذہب وفات مسیح علیہ السلام نہیں۔ جس کا تذکرہ گذر چکا تو امام بخاری کا جو کہ ناقل محض ہیں۔ کیسے یہ مذہب ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔
ابوعبداﷲ محمد بن ماجہ قزوینی (ابن ماجہ ج۲ ص۲۶۵) ’’عن نواس بن سمعان ان المسیح ینزل عند منارۃ البیضاء شرقی دمشق‘‘ {یعنی مسیح علیہ السلام جامع دمشقی کے مشرقی منارہ پر اتریں گے۔}
حافظ ابوعیسیٰ محمد بن علی الحکیم الترمذی (ترمذی ج۲ ص۴۷) ’’عن نواس ان المسیح ینزل عند المنارۃ البیضاء دمشق‘‘ {یعنی آپ مشرقی منارہ پر اتریں گے۔}
سلمان بن اشعب سجستاتی (سنن ابوداؤد ج۲ ص۲۴۶) ’’عن ابی ہریرۃؓ عن النبیﷺ قال لیس نبی بینی وبینہ ای عیسیٰ وانہ نازل‘‘ {یعنی آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے مابین کوئی نبی نہیں اور وہ اترنے والے ہیں۔}
ابوعبدالرحمن احمد شعیب النسائی سنن النسائی (کتاب الجہاد ص۴۹۶) ’’عن الثوبان عن النبیﷺ قال قال رسول اﷲﷺ عصابتان من امتی اخرہم اﷲ من النار عصابۃ تغزوا الہند وعصابۃ تکون مع عیسیٰ بن مریم‘‘ {یعنی آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے دو جماعتوں کو اﷲتعالیٰ نے دوزخ سے دور کیا