اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کے بعد ظلی یا بروزی یا کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب اور دجال ہوگا۔
’’عن ابن عمرؓ قال خرج علینا رسول اﷲﷺ یوما کالمودع فقال انا النبی الامی انا النبی الامی انا النبی الامی ولا نبی بعدی (الی قولہ) فاسمعوا واطعیوا مادمت فیکم فاذا ذہب لی فعلیکم بکتاب اﷲ واحلوا حلالہ وحرموا حرامہ (رواہ احمد، تفسیر ابن کثیر ج۸ ص۹۱۰)‘‘ {ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ ایک دن ہم میں تشریف لائے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی آخری وصیت فرمانے والے ہیں۔ پس آپؐ نے فرمایا میں ہی نبی امی ہوں۔ میں ہی نبی امی ہوں، میں ہی نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس تابعداری کرو۔ میری جب تک میں تم میں موجود ہوں اور جس وقت میں اس جہاں کو خیرباد کہوں تو کتاب اﷲ (امام) پر مضبوط سے قائم رہنا اور اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنا۔}
لیکن مرزاغلام احمد قادیانی دواہم فریضوں کے تارک ہیں۔ باوجود یکہ ان کا دعویٰ مجدد، محدث اور نبی کا ہے۔ پہلے کا مقصد اسلام کے مرکز کو قائم رکھنا وہ ہے۔ ’’حج بیت اﷲ‘‘ اور دوسرا جہاد۔ استطاعت ہوتے ہوئے حج بیت اﷲ نہ کرنا بہت بڑی بدبختی ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی رئیس قادیان تھے اور مریدوں سے لاکھوں روپیہ وصول کرتے تھے اور جہاد جس سے اسلام کی بقاء اور کفر کو نیست ونابود کرنا مقصود ہے۔ اس کو حرام قرار دے کر ہمیشہ کے لئے مسلمانان ہند کو سکھوں، ہندوؤں، بت پرستوں اور انگریز تثلیث پرستوں کا غلام بنانا جرم عظیم اور اسلام سے غداری ہے۔
’’عن عبداﷲ ابن ثابتؓ قال جاء عمرؓ الیٰ النبیﷺ فقال یا رسول اﷲ امرت باخ لی من قریظہ فکتب لی جوامع من التوراۃ عرضہا علیک فتغیر وجہ رسول اﷲﷺ قال والذی نفس محمد بیدہ لواصبح فیکم موسیٰ ثم بیعتموہ لضللتم انکم حظنی من الامم وانا حظکم من النبیین (رواہ احمد بن حنبل ج ثالث ص۴۷۰)‘‘ {عبداﷲ بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ عمرؓ رسول اﷲﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ بنی قریظہ کے ایک شخص کے پاس سے میں گذرا تو اس نے مجھے توریت کے کچھ جامع کلمات لکھ دئیے۔ تاکہ آپؐ کی خدمت میں پیش کروں۔ پس غصے سے رسول اﷲﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا اور فرمایا کہ قسم