کوئی کسی کام کی فرمائش کرتاہی نہ تھا کہ مجھ سے کام بگڑتاتھا،کام کانہ تھا اس لئے وقت خوب فارغ رہتاتھا۔
میرے لئے سب سے زیادہ سخت دن وہ ہوتاتھا جس دن تاناتنا جاتاتھا، اس میں حاضری سے باوجود میری ناکارگی کے معافی نہ تھی، اوراس سے غیرحاضری کاکوئی عذربھی قبول نہ ہوتا،تانا ایک باغ میں تنا جاتا ،اس کا علم اورکتاب سے کوئی ربط نہ تھا بلکہ دونوں میں تضاد تھا، والد صاحب کاحکم ہوتاکہ اس میں حاضر رہوں اورمیری طبیعت بہانے ڈھونڈتی ،مگر حاضر ہونا ہی پڑتا ،میر ے والد نے مجھے کبھی نہیں مارا ،مگر تانے میں غیرحاضری پر ایک روز مار کھانی پڑی، میں وہاں بھی کوئی کتاب لے کر جاتا ، اور والد صاحب کی نگاہ سے بچاکر پڑھ لیتا، اس کا نتیجہ یہ ہواکہ میں تانا میں حاضری کے باوجود اس کے ڈھنگ سے بے ڈھنگا ہی رہا۔
اسی زمانے میں والد صاحب نے میرے اوپرپابندی عائد کی کہ جو پڑھتے ہو ،شام کو مجھے سنایاکرو ،میرا حافظہ اچھا تھا شام کو سب سنادیاکرتا،دوتین روز میں والد صاحب خود گھبرا گئے ۔حکم دیاکہ اچھا جو پڑھتے ہواس کا خلاصہ روزانہ لکھ لیاکرو لیکن یہ کام مجھ سے بالکل نہیں ہوسکا ۔لکھنے سے کوئی مناسبت نہ تھی ،لکھنے میں وقت لگتاتھا۔میں سوچتاتھا کہ جتنی دیر لکھوں گا اتنی دیر میں میں بہت کچھ پڑھ لوں گا اس لئے قلم کبھی ہاتھ میں نہیں لیا بس پڑھی ہوئی باتیں دماغ میں اتارتارہا۔ اگر اس وقت کچھ نوٹ تیار کرتا رہتا تو آج میرے پاس علم کا بڑ اذخیرہ ہوتا۔مگر مجھے تو پڑھنے کی دھن تھی۔
میرے گھر میں ’’ہمدرد صحت‘‘ کے کچھ شمارے تھے،یہ رسالہ ہمدرد دواخانہ دہلی سے حکیم عبدالحمید صاحب کی ادارت میں کبھی نکلاکرتاتھااس میں طبی مضامین کے علاوہ دوسرے بھی کار آمد مضامین ہواکرتے ،اس میں ایک مضمون تھا کہ آپ مطالعہ کیسے کریں ؟اس عنوان کے تحت مطالعہ کے بارے میں بہت سی مفید باتیں لکھی تھیں میں نے اسے بہت غور سے پڑھا اس میں ایک بات یہ بھی لکھی تھی کہ کتاب میں یامضمون میں جو بات پسند آئے یا