جنون ہے بیماری کی حالت میں مطالعہ کی رفتارکچھ بڑھ ہی جایاکرتی ۔
میری والدہ نہیں تھیں میری نانی بہت بوڑھی تھیں اورمجھ پر حد سے زیادہ مہربان و شفیق! تقریباً ہرروز میری حاضری ان کے یہاں ضروری تھی کوئی دن ناغہ ہوتا تو وہ بے چین ہوجاتیں ، میں بیمارہوتا تو لاٹھی ٹیکتی میرے گھر آجاتیں ،اور گھنٹوں سرہانے بیٹھی رہتیں ، مجھے بھی ان سے بہت محبت تھی میرے پڑھنے کاجنون انھیں معلوم تھا ،مگرجب انھیں محسوس ہوا کہ یہ اپنی صحت سے بے نیازہوکر پڑھتاہے تو سمجھانے لگیں کہ اتنا نہیں پڑھتے ،دوایک مرتبہ انھوں نے سمجھایا تو میں نے ان کے پاس جانا چھوڑ دیا ، پھر نہ جانے کیاہواکہ مجھے حجاب ساہوگیا،میں نے نانہال کا رخ کرناہی بندکردیا ،حالانکہ میرادل نہایت مضطرب رہتا،مگر کسی طرح ہمت نہ ہوتی کہ وہاں جاؤں ،دوماہ اسی حجاب اوراضطراب میں گزرگئے ،میں پریشان ہوگیا،نانی خود گھر پر آتیں اورمیں سنتے ہی بھاگ جاتاکہ پڑھنے کو منع کریں گی۔ بالآخر گرفتاری ہوئی سامناہوا، انھوں نے پڑھنے سے منع نہیں کیا، البتہ گھر پر نہ آنے کی شکایت کی پھر حجاب اٹھ گیا ،یہ دور میرے لئے سخت اضطراب کا تھا۔
یہاں یہ بھی ذکرکروں کہ میں گھریلو کاموں میں نکماتھا ،کوئی کام ٹھکانے کامجھ سے بن نہیں پاتاتھا، کوئی سامان دکان سے لیتاتو اچھے برے کا کچھ پتہ نہ چل پاتا۔گوشت ہمیشہ والد صاحب لایاکرتے ،بہنیں کوستیں کہ تمہاری عمر کے لڑکے قصاب کی دکان سے گوشت لاتے ہیں تم بھی لایاکرو ، میں طرح دے جاتا۔ جس دن والد صاحب کہیں چلے جاتے اس دن گھر میں گوشت نہ آتا ،ایسے ہی کسی دن میری بڑی بہن نے زبردستی قصاب کی دکان پر مجھے بھیج دیا،میں شرمیلا اورکمزور دل کا ،دکان پر بھیڑتھی،میں چپکے سے بیٹھ گیا ، جب سب لوگ گوشت لے کر چلے گئے تو قصاب نے مجھ سے پوچھا کہ کچھ چاہئے ،میں نے کہا ہاں گوشت چاہئے، اس نے بچاکھچا گوشت میرے ہاتھ میں تھمادیا،میں لے کر گھر آگیا، بہن نے دیکھا تو بہت خفا ہوئی اورمجھے قصاب کی دکان پرجانے سے نجات مل گئی۔مجھے اپنی اس ناکارگی پر افسوس ہوتاتھا لیکن خوشی بھی ہوتی تھی کہ یہ ناکارگی پڑھنے کیلئے بڑی معاون تھی،