نہ رہتے ، دن رات میرے ساتھ رہتے ، طالب علمانہ شوخیوں اور لاپروائیوں سے انھیں کوئی واسطہ نہ تھا ۔ علاقے کے لوگ بھی ان کی دینداری سے بہت متاثر ہوتے ، اور ان کی قدر کرتے۔
بقرعید میں قربانیاں بہت ا ہتمام سے ہوئیں ، میرے وہاں ہونے کی وجہ سے پورا علاقہ دینی اعمال واشغال سے معمور رہا، اب میرا بھی حوصلہ بڑھا، میں بچوں کو تعلیم کے لئے تیار کرتا رہا۔ اکثر کو تعلیم دینے کے لئے اور بعض کو مدرسہ کی خدمت کے لئے ساتھ لے گیا۔‘‘
٭٭٭٭٭
مدرسہ دینیہ میں دوسرا سال
شوال ۱۳۹۴ھ تا شعبان ۱۳۹۵ھ
میں پچھلے سال جب مدرسہ دینیہ میں آیاتھا ، تو یہاں تعلیم کہنے تو عربی چہارم تک تھی، مگر طلبہ بہت کم تھے ، عربی چہارم میں صرف دو طالب علم تھے ، مولوی خورشید عالم اور مولوی عابد علی ۔ یہ دونوں بچے بہت سعادت مند اور نیک ودیندار تھے ، ذہنی وعلمی استعداد متوسط تھی ، عربی سوم میں بھی دو ہی طالب علم تھے جن کی استعداد بہت کمزور تھی ، عربی دوم میں کوئی طالب علم نہ تھا ۔ عربی اول میں اور فارسی میں مجموعی اعتبار سے پانچ سات طلبہ رہے ہوں گے ، درجۂ حفظ میں دس پندرہ تھے ، یہ کل کائنات تھی ۔ اساتذہ میں عربی وفارسی میں میرے علاوہ حضرت مولانا مشتاق احمد صاحب علیہ الرحمہ صدر المدرسین تھے ، اور مولوی جلال الدین صاحب علیہ الرحمہ تھے ، درجہ حفظ میں حافظ محمد الیاس صاحب تھے ، عمارت بھی بہت مختصر تھی ، مکتب کے درجات میں بھی طلبہ زیادہ نہ تھے ، البتہ مہتمم جناب عزیز الحسن صاحب صدیقی کا حوصلہ بلند تھا ، وہ موقع کے لحاظ سے تو چھوٹا مدرسہ تھا ،مگر کاغذی تحریروں اور منصوبوں کے اعتبار سے خاصا بڑا تھا۔