بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
صدائے دل
حضرت مولانا نثار احمدصاحب قاسمی دامت برکاتہم
صدر المدرسین دار العلوم الاسلامیہ بستی
نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم امابعد!
زندگی قطرہ کی سکھاتی ہے اسرارِ حیات
یہ کبھی گوہر کبھی شبنم کبھی آنسو ہوا
کہتے ہیں کہ انسان ایک ترقی پذیر حیوان ہے ، ربّ کریم کی شانِ کرم ، خالق کائنات کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہوا کہ انسان کوعلم وعمل سے کورا پیدا کرے۔
وَاﷲُ خَلَقَکُمْ مِنْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ شَیْئاً وَّجَعَلَ لَکُمْ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔(سورۃ النحل:۷۸)
وہی ذات ہے جس نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا اس حال میں کہ تم کو کچھ خبر نہیں تھی ، تم جاہل مطلق تھے ، اور اسی نے تمہارے فائدے اور ترقی کے لئے تمہارے واسطے کان اور آنکھ ( عقل وشعور کامحل ) دل بنادیا، تاکہ تم لوگ اﷲ کا احسان مانو۔
پھر صحیح عقل وشعور اور فکر وتدبر کا حامل بناکر خلیفۂ کائنات اور اشرف المخلوقات کا خطاب عطا کیا ، خاص الخاص اپنی صفت ربوبیت ورزّاقی سے ایک مشت خاک کی تربیت فرماکر باکمال انسان بنادیا۔
دنیا کی اسی بستی پر خیر وشر کے بڑے بڑے معرکوں میں نبرد آزمائی کے لئے اﷲ نے کیسے کیسے سورما پیدا کئے اور کتنے پیدا کئے ؟ وہی جانتا ہے ۔ انبیاء وصدیقین ، شہداء وصالحین