بیمار ہوتا تو مجھے خوشی ہوتی کہ نانی عصا ٹیکتی ہوئی آئیں گی، کبھی بیمار ہوا، اور وہ نہ آئیں تو بیماری شدت اختیار کرلیتی، اور جب یہ خبر ملتی کہ وہ آرہی ہیں ، تو آناًفاناً مجھے صحت ہونے لگتی۔
میں اس وقت سے مریضِ محبت ہوں جب میں جانتا بھی نہ تھا کہ محبت کیا شے ہے؟ اور جب مجھے اس کی خبر ہوئی ، تو میں کیا عرض کروں کہ مجھ پر کیا بیتی؟ مجھے خود لفظ ’’محبت ‘‘ سے محبت ہوگئی ۔ میں ذکر کرچکا ہوں کہ مجھے مطالعہ کا شوق کتنا تھا،لیکن یہ مطالعہ نثر تک محدود تھا، نظموں اور اشعار کا مطالعہ نہیں کرتاتھا کیونکہ وہ سمجھ میں نہیں آتے تھے ، سمجھنے کے لئے غور کرنااور ٹھہرنا پڑتا تھا ، جس کی جوش مطالعہ میں گنجائش نہ تھی، مگر جب اپنی محبت کاشعور ہوا، تو میں نے بے تحاشا اشعار کا مطالعہ شروع کردیا ، مجھے صرف اس شعر سے دلچسپی تھی جس میں لفظ محبت آیاہو، حالانکہ لکھنے سے مجھے کوئی مناسبت نہ تھی ، میں اسے مطالعہ کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا تھا ، مگر لفظ محبت نے مجبور کیا کہ میں اسے اپنے قلم سے لکھتا رہوں ، چنانچہ میں نے ایک کاپی بنائی اور اس میں ہر وہ شعر لکھ لیتا تھا ، جس میں محبت کا لفظ آیا ہو، میرا خیال ہے کہ میری کاپی محبت کے اشعار سے بھر گئی تھی ۔ حصول علم کی غرض سے مبارک پور جانے تک وہ کاپی میرے پاس تھی ،مبارک پور پہونچنے کے بعد درسی مشغولیات میں کاپی سے توجہ ہٹ گئی ، پھر ا ﷲ جانے وہ کہاں گم ہوگئی، اشعار کے باب میں میرا حافظہ بہت کمزور ہے، مگر محبت کے اشعار اب بھی بکثرت یاد ہیں ۔
جامعہ عربیہ احیاء العلوم مباک پور پڑھنے آیاتو یہاں اساتذہ اور رفقاء کی ایک نئی دنیا ملی ، محبت کیلئے بہت سے مراکز ملے ، مجھے اپنے اساتذہ سے بھی بے حد محبت تھی ، اور رفقاء وطلباء سے بھی! میں اس محبت میں سب کی خدمت کرنا چاہتا تھا مگر طبیعت بودی تھی ، سلیقہ بالکل نہ تھا، بدن بھی کمزور تھا ، سوچ کر رہ جاتا، اورکتابوں میں ڈوب جاتا۔
دوستیاں اور محبتیں
مبارک پور میں مضافات کے طلبہ بہت رہاکرتے تھے ۔ ابراہیم پور ، نوادہ، رسول پور،