صاحب نے اس وقت اس کی شرح کلید کے نام سے لکھی تھی میں نے اپنے ایک ساتھی کے پاس دیکھی ، میں نے اس سے پڑھنے کے لئے مانگی اس نے انکار کردیا،میں والد صاحب کے سرہوگیا۔ وہ کہیں سے خرید لائے ،پھر میں نے اس میں اشعار کی شرح اتنی مرتبہ پڑھی کہ یاد ہوگئی اور اشعار سے کچھ کچھ مناسبت محسوس ہونے لگی ۔ایک دن دیکھا تومیری کلید غائب تھی، مجھے بہت صدمہ ہوا مگر چند دنوں کے بعد اسی پٹنی پر جس کا ذکر پہلے آچکاہے،پھٹی چری مل گئی، میرے ایک ساتھی نے جس کو مجھ سے حسد تھا ،ایساکیاتھا۔
میرے مطالعہ کے لئے نہ کسی وقت کی پابندی تھی نہ کسی خاص طریقہ کی، گاؤں کارہنے والا ، جسے نہ علماء کی صحبت نصیب اورنہ علم کے آداب معلوم ، اورنہ اس کے گھر میں تحصیل علم کے لوازم وآداب موجود،بس جب جی میں آیا کتاب لے کر پڑھنے لگا ،کھڑاہوکر پڑھتا تو ایک ایک گھنٹہ گذرجاتا،بیٹھتا تو بیٹھا ہی رہ جاتا ۔لیٹ کر مطالعہ کرتا توکرتاہی چلا جاتا، کھانا کھاتا رہتا اورپڑھتارہتا میری بہنیں میرے ہاتھ سے کتاب چھین لیتیں اورمیں بے بس ہوجاتا،کھیلنے اورگھومنے پھرنے کا شوق نہ تھا۔ ساتھیوں میں پڑکر کبھی ادھر ادھر نکل جاتا ،ورنہ زیادہ ترگھر میں ہی گھسارہتا۔عصر کے بعد بھی کتاب میں جٹارہتا۔زبان سے پڑھنے کی عادت نہ تھی ،نگاہ سطروں پر دوڑتی رہتی اورمعانی دل میں اترتے رہتے ،میری بہنیں اعتراض کرتیں کہ تم پڑھتے نہیں ہو،پڑھنازبان سے ہوتاہے اورتمھارا منھ تک نہیں ہلتا انھوں نے مجھے پابند کیاکہ میں بآواز بلند پڑھاکروں ،عصر کے بعد وہ دونوں روٹی پکاتیں اورمیں کھٹولے پر بیٹھا کوئی کتاب سناتا ،مگر اس میں پڑھنے کی رفتار اورمقدار بہت ہلکی اورکم ہوتی ،میں نے کہہ دیاکہ تم لوگ میرے پڑھنے کومانو یانہ مانو،میں زبان سے نہیں پڑھوں گا ، پھر وہ توے پر روٹیاں سینکتیں اورمیں کتاب سے آنکھ سینکتا ،میرے والد منع کرتے کہ عصرکے بعد پڑھنے سے بینائی کمزورہوجاتی ہے، صحت کا خیال رکھو مگر میرا جنون اس کا متحمل نہ تھا اس وقت میں کثرت سے بیمار بھی ہواکرتامیراجسم سداکا کمزورہے ،ہرتین ماہ یا چھ ماہ پر تیز بخار آیا کرتا جو کم ازکم ایک ہفتہ تک بستر پر ڈالے رہتا اکثر نمونیہ کا بھی شکارہوتا لیکن پڑھنا بھی عجب