میں ایک ماہنامہ احسن رامپور تھا ۔اس کے بارہ پندرہ شمارے گھر میں تھے، شاید اب بھی ہوں گے۔ یہ ایک ادبی ماہنامہ تھا،والد صاحب کچھ شاعری کرلیتے تھے،تخلص ان کاکوثرؔ تھا۔ان کے استاذ ابرؔاحسنی گنوری تھے انھوں نے اپنے استاذ مولانا علی احسن صاحب ،احسنؔ مارہروی کی یادگارمیں اپنے شاگردوں اوراپنے خواجہ تاش بھائیوں کے تعاون سے رامپور سے اس کو نکالاتھا۔گھر پر جو پرچے تھے ۱۹۵۱ء کے تھے، اس میں ادبی مضامین اورافسانے بہت اچھے ہواکرتے تھے، اردوادب سے دلچسپی کا آغاز اسی رسالے سے ہوا ۔اس کے تمام شمارے میں نے بہت اہتمام اورشوق سے پڑھے تھے۔
ہاں یہ بھی عرض کرتاچلوں کہ مجھے اشعار سے نہ مناسبت تھی نہ دلچسپی ! پہلے سمجھ میں بھی کم ہی آتے تھے ،نثری مضامین پڑھتے وقت درمیان میں کوئی شعر آجاتا تواسے میں چھوڑدیتاتھا۔ اب بھی جس مضمون یاکتاب میں موقع بے موقع اشعار کی بھرمار ہوتی ہے اس کا پڑھنا میرے لئے مجاہدہ ہوتاہے ،میرے گھر پر حفیظ جالندھری کی کتاب شاہنامہ اسلام تھی۔اس میں نظم کئے گئے تاریخی واقعات کی سندیں حاشیہ میں سیرت النبی وغیرہ کے حوالے سے پیش کی گئی تھیں ، لمبے لمبے حاشیے تھے جتنے مضامین نظم میں تھے تقریباً وہ سبھی حاشیہ کی نثریں موجود تھے۔میں شاہنامہ کی نظم کبھی پوری نہیں پڑھ سکا،البتہ اس کا حاشیہ بار بار پڑھا۔اب بھی وہ نسخہ میرے پاس موجود ہے ۔اسی طرح اس وقت مسدس حالی اورشکوہ جواب شکوہ کا چرچا خوب تھا ،مسدس حالی کا جو نسخہ میں نے پڑھا،اس میں بھی حواشی تھے وہ توخوب پڑھے ،مگر اصل کتاب نہیں پڑھ سکا ۔شکوہ جواب شکوہ اس وقت پڑھا جب میں ادیب کا امتحان دینے کی تیاری کررہاتھا۔
درجہ پانچ میں اردو کی کتاب بیسک ریڈرکاپانچواں حصہ نصاب میں داخل تھا، اس میں جو نظمیں تھی جیسے ماں کا خواب،جگنو،حب وطن وغیرہ ان کے پڑھنے کی مجبوری تھی ۔ پڑھتاتھا مگر مطلب خوب سمجھ میں نہیں آتاتھا ،ماسٹر صاحب خوب سمجھادیتے تھے اس وقت سمجھ میں آبھی جاتاتھا، مگر مناسبت نہ ہونے کی وجہ سے ذہن سے جلدہی نکل جاتاتھا ،کسی