اس کے خریدارتھے اوریہ تصویر ٹیگور کی تھی جس کی نہ جانے کتنی کتنی مدح ہوتی ہے، اور اس رسالے میں بھی تمام مداحی تھی،مگر میرے ذہن میں اب تک وہ ایک بھوت ہی ہے ۔
غالباً پرائمری ہی کا دور تھا،درجہ پنجم میں رہاہوں گا استاذ محترم مولانا عبدالستار صاحب کے یہاں الفرقان کا کا شاہ ولی اللہ نمبر نظر آیا،میں مانگ کرگھر لایا اس کے مضامین بہت معیاری تھے، لیکن عادت کے مطابق ایک طرف سے پڑھنا شروع کیا اس میں مولانا مودودی صاحب کا بھی ایک مضمون تھا، اس نے مجھے بہت متأثر کیا۔خوب سمجھ میں بھی آیا، مگر حضرت مہدی کے متعلق انھوں نے جو کچھ لکھا تھا وہ نہ اس وقت سمجھ سکا اورنہ اب تک وہ سمجھ میں آیا، حضرت مہدی کے سلسلے میں اور حضرت عیسیٰ ں کے نزول کے سلسلے میں حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کی فارسی تصنیف کا اردوترجمہ ’’علامات قیامت‘‘ کے نام سے اس سے پہلے پڑھ چکاتھا ۔مودودی صاحب نے اس کے خلاف دعویٰ پیش کیا تھا اوردلائل میں صرف ان کے قیاسات تھے، اس سے طبیعت کو بے اطمینانی ہوئی، دوسرے ان کے بعض جملے جو تصوف کے متعلق تھے دل میں بہت چبھے تھے ،اور تیسری چیز جس نے ان سے مجھے دورکیاا ن کا اس مضمون میں وہ لب ولہجہ تھاجس سے میں نے اس وقت یہی سمجھا کہ یہ شخص خود کو مجدد کے درجے میں لانا چاہتاہے ،یہ ان کی پہلی تحریر تھی جو میں نے پڑھی اورطبیعت کوان سے ایک بعد محسوس ہوا،پھرتو اس کے بعد ان کی بیش تر تحریریں پڑھنے کا تفاق ہوامگر یہ تاثر کم نہیں ہوا بلکہ بڑھتاہی گیا۔
اس میں مسعود عالم ندوی کا بھی مضمون پڑھ کر تکلیف ہوئی تھی، بعد میں جب مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کی کتاب ’’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم وتربیت‘‘پڑھنے کا اتفاق ہوا ،تو مسعود عالم صاحب نے ہندوستانی علماء کی شاہ ولی اللہ صاحب سے پہلے جوتصویر بنائی تھی اور اس سے جو تکلیف محسوس ہورہی تھی اس کا اثر ختم ہو،اوراحساس ہواکہ ہلدی کی گانٹھ پا کر پنساری کی دکان سجانے والوں سے ہوشیار رہنا چاہئے ۔
اس دوران گھر کے اندر جو کتابیں اوررسائل میں نے پڑھے اورباربار پڑھے ان