ہی ہوتی ہے اورمیں توانتخاب کرنے کی استعداد رکھتاہی نہیں جیسے پہلے بے تحاشا پڑھا ہے اب بے تحاشا سنارہاہوں ۔
ہاں توبات یہ ہوئی کہ درجہ چار میں ماسٹر صاحب نے دوحساب پڑھائے، ایک کا نام ذواضعاف اقل تھا اوردوسرے کا نام عاد اعظم تھا۔اب صرف نام یاد ہے، اس کا طریقہ وغیرہ کچھ یاد نہیں ہے۔ طریقہ ٔ حساب ذرامشکل تھا بڑی دیر میں اس کے قواعد وکلیات سمجھ میں آئے لیکن جب سمجھ میں آگئے تو بہت لذیذ معلوم ہوئے ،جمعرات کا دن تھا ماسٹر صاحب نے صبح کے وقت جمعرات اورجمعہ کی چھٹی کا حوالہ دے کر دونوں کے کئی کئی سوالات لکھوائے کہ سنیچر کو حل کرکے لے آنا،اس دن اتفاق سے میرے کسی رشتہ دار کے یہاں کوئی تقریب تھی مجھے تقریبات سے بہت وحشت تھی جب تک مجھے زبردستی نہ لیجایاجاتا میں کسی تقریب میں نہ جاتا ،میرے گھر کے سب لوگ اس تقریب میں چلے گئے تھے، اس وقت افراد کی تعداد بھی گھر میں کم ہی تھی، بس والد صاحب اوردادا،اوردومجھ سے بڑی بہنیں ، اورپانچواں میں ،گھر کی کل کائنات یہی تھی۔ چاروں اس تقریب میں چلے گئے، میں گھر پر اکیلا تھا ظہر کے بعد میں کاپی لے کر حساب کے سوالات حل کرنے کیلئے بیٹھ گیاا س میں مجھے اتنا استغراق ہوا کہ گرد وپیش کا سا راماحول فراموش ہوگیا۔میراایک ساتھی گھر میں داخل ہوامجھے کچھ احساس نہیں ہوا وہ میرے پاس آکر چپکے سے بیٹھ گیا اس کا بھی مجھے کچھ پتہ نہیں چلا ۔وہ ساتھی ایساتھا کہ میں نہیں چاہتاتھا کہ وہ میراحساب دیکھے ،لیکن وہ کتنی دیر تک دیکھتارہا یہ اس کے بتانے کے بعد مجھے معلوم ہوا،وہ دیر تک خاموش دم سا دھے بیٹھا رہا ،پھر اچانک ایک رسالہ میری کاپی پر رکھ دیا جس کے سر ورق پر ایک بھیانک چہرہ اورسرکی تصویر تھی ،میں تقریباً چیخ پڑا ،میرادل دھک دھک کررہاتھا وہ ساتھی بھی گھبراگیا ۔ ایک تو اچانک میری کاپی پر ایک اجنبی چیز کا آجانا پھر جو اس پر تصویر بنی تھی وہ بھوت بن کر میرے دماغ کو چمٹ گئی۔ استغراق تام سے افاقہ ایسا جبری ہوا کہ اب تک جب وہ تصویر کبھی سامنے آجاتی ہے تو وہی سابقہ کیفیت عود کرنے لگتی ہے، یہ رسالہ’’ پاسبان‘‘ تھا ،جو پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے ماہانہ نکلا کرتاتھا ، والد صاحب