میں نے اس کو موڑ اس لئے کہا کہ مجھے مولوی بنانے میں جہاں تک میراخیال ہے اس قرأ ت کا دخل زیادہ ہے ہمارے گھرانے میں کوئی مولوی یاحافظ اس وقت نہیں تھا دادا مرحوم کے والد حافظ محمد طاہر صاحب تھے ان کے بعد نہ کوئی حافظ اورنہ کوئی مولوی ،بلکہ مولوی سرے سے کوئی ہواہی نہ تھا ۔آج میں سوچتاہوں کہ بخاری شریف کی قرأت کے وقت دادامرحوم میرے لئے دعا کرتے رہے ہوں گے اس وقت مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ عا لمیت کی تکمیل ہمارے مدارس میں بخاری شریف پر ہوتی ہے،ہاں شاید دادا مرحوم نے بتایاتھا۔ انھیں کی دعاؤں کی برکت ہوگی کہ میرے ساتھ علم کا نام لگ گیاہے ورنہ میری طالب علمی ایسے ہچکولوں میں گذری ہے کہ نہ جانے کشتی کہاں غرق ہوجاتی۔
غرض یہ کہ اس وقت مجھے پڑھنے کا جنون تھا میرا بس چلتاتو میں مکتب بھی نہ جاتا، کیونکہ مکتب میں کتابوں کی چال چیونٹی کی تھی، جو کتابیں میرے درس میں ہوتیں میں انھیں چند ہی دنوں میں چاٹ ڈالتا، ریاضی میں کمزور تھا کیونکی گنتی لکھنے سے مجھے مناسبت نہ تھی ، میں صرف پڑھنے کو علم سمجھتاتھا،گنتی پڑھنے اورلکھنے کو زائد کام تصورکرتاتھا لیکن ماسٹر صاحب نے سمجھادیاکہ درجہ پانچ میں حساب کا مضمون سب سے اہم ہے اس میں اگر نمبر کم آگیا تو باقی مضامین کے زیادہ نمبرات بھی تلافی نہیں کرسکیں گے۔اس لئے درجہ پانچ میں آکر بلکہ درجہ چار ہی سے میں نے اس میں بہت محنت کی اس محنت کے نتیجے میں تحریری حساب میں تومیں بہت چست ہوگیا۔لیکن زبانی حساب جس کو’’منٹل‘‘ کہاکرتے تھے میں بالکل فیل تھازبانی حساب میں کبھی نہیں بتاپاتاتھا، ہاں لکھنے میں چونکہ چوکس تھا اس لئے اس میں سب سے آگے ہوگیاتھا اس زمانے کا ایک دلچسپ قصہ اب تک میرے دل پر تازہ ہے اگر چہ موضوع سے ہٹاہواہے لیکن چونکہ اس کا اثر میرے ماضی سے حال تک مسلسل یکساں رہاہے اس لئے اگرذکر کردوں توچنداں مضائقہ نہیں ، بات لمبی ہوتی جارہی ہے مگر آدمی کو اپنی ذات سے اپنے اوپر بیتی ہوئی کہانیوں سے ایک طرح کی دلچسپی ہوتی ہے اسے انھیں یاد کرنے میں ، انھیں دہرانے میں لذت محسوس ہوتی ہے اس لئے ان میں انتخاب کرنے کی صلاحیت ذراکم