وآخر غائب تھا اس لئے مصنف کا نام معلوم نہ ہوسکا۔اوپر صفحہ پر جیساکہ کتاب کا نام اوپر لکھاہواہوتاہے وہ بھی نہ تھا، حاجی صاحب نے اس کا نام ’’مقدس اسلام ‘‘بتایاتھا۔غالباً اندر کہیں یہ نام آیابھی تھا کتاب مشہور آریہ سماج کے بانی دیانند سرسوتی کی کتاب سیتارتھ پرکاش کے جواب میں لکھی گئی تھی،بہت دلچسپ اورایمان افروز اورضخیم بھی تھی ،اس کے پڑھنے کا سلسلہ بہت دنوں تک جاری رہا، اورغالباًوہ بھی دومرتبہ پڑھی گئی ۔یہ کتاب بھی میں نے ہی پڑھی تھی، اس کتاب کے پڑھنے سے رسول اللہ اکی محبت اورشریعت کی عظمت وحقانیت کا نقش دل پر خوب جما ،اس وقت تک سیرت کے موضوع پر بچوں کے مناسب چھوٹے چھوٹے رسائل اورکتابچے بہت سے پڑھ چکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعقیدت سے خوب بہرہ ور ہوچکا تھا۔
اسی دوران اللہ تعالیٰ کی طر ف سے میرے پڑھنے کا ایک عجیب موڑ آیا۔ غالباً دادامرحوم نے فرمائش کی تھی، یاوالد صاحب نے از خود حافظ محمدرفیع صاحب کے ذریعہ سے بخاری شریف کا ترجمہ کراچی سے منگوایا،یہ ترجمہ تین جلدوں میں ہے ،ترجمہ کرنے والے مرزا حیرت دہلوی ہیں ،یہ تینوں حصے گھر میں آئے تومیں خوشی سے جھوم اٹھا،مجھے اس کی خوشی تھی کہ اب کچھ دنوں تک مجھے اورکوئی کتاب ڈھونڈھنی نہیں پڑے گی ،یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ اس سے پہلے میں حدیث کے دوسرے مجموعے ،جنت کی کنجی، دوزخ کا کھٹکا، رسول کی باتیں ،خداکی باتیں ، پردہ کی باتیں وغیرہ باربار پڑھ چکا تھا اب جو یہ ام الکتاب آئی توخوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اس کے آجانے کے بعد مکتب کے علاوہ کہیں آنے جانے کا سلسلہ تقریباً بند ہوگیا، آتے ہی اس کا مطالعہ شروع کردیا جس دن کتاب آئی دادامرحوم نے دوسرے دن مکتب کی چھٹی کے بعد مجھے حکم دیاکہ وضو کرو ، خود بھی وضو کیا صاف ستھری چٹائی بچھائی،رحل پر بخاری شریف کاپہلا حصہ رکھا ،ادب سے سرجھکا کر بیٹھ گئے اورمجھے حکم دیاکہ پڑھو، میں نے پڑھنا شروع کیا،دیر تک پڑھتارہا پھریہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک تینوں حصوں کی قرأت مکمل نہیں ہوگئی ۔اوراہتمام والتزام وہی ہوتا جس کا میں نے اوپر ذکر کیا،