میں نے پڑھنا شروع کیاتومحسوس ہواکہ یہ کتاب المصباح الجدید کا جواب ہے اوراس کے شروع میں مولانا محمدحنیف صاحب نے جومقدمہ لکھا ہے وہ بہت دلچسپ اور معلومات افزاہے ،مجلس کا وقت تومحدود تھا میں نے اس کتاب کوایک ہی دن میں پوراپڑھ ڈالا اورہر روز ایک محدود مقدارمیں اسے پڑھ کر سناتا لوگ تبصرے کرکے خوش ہوتے میرے استاذ مولانا عبدالستار صاحب مدظلہ کسی کسی عبارت کی تشریح کرتے اس دوران میں اسے ہر روز ایک مرتبہ پڑھ لیاکرتاتھا وہ کتاب قریب قریب مجھے یا دہوگئی۔اب میں اپنے مذکورہ پھوپھی زاد بھائی سے مناظرہ کرنے کیلئے بالکل تیار ہوگیا ۔وہ جمعرات کو خیرآباد سے آتا تومیری اس کی بحث ہوتی، اس سے بہت مناظرے ہوئے خیروہ ایک الگ موضوع ہے اب وہ اپنی جماعت کا بڑاعالم مولانا محمداحمدصاحب مصباحی شیخ الادب والفقہ جامعہ اشرفیہ عربی یونیورسٹی مبارک پور ہے ۔ اپنے مسلک کی روایت کے مطابق سلام وکلام سے احتراز فرماتا ہے ، سامنا ہوتاہے لیکن باوجود طبیعت کے تقاضے کے ان کے مسلک کے احترام میں مَیں بھی سلام کو نظرانداز کردیتاہوں ۔
مقامع الحدید نے میری طبیعت پر بہت اثر ڈالا ،پھر کسی بریلوی عالم یا بریلوی کتاب سے طبیعت متاثر نہیں ہوئی۔میں ان دنوں کتابوں کی تلاش میں اپنے دوستوں کے گھروں میں جایاکرتاتھا حاجی محمد صابرصاحب مرحوم کے پاس کتابیں تھیں مگر وہ بوڑھے بزرگ ایک بچہ ان کے پاس کیسے جاتا،ان کے بھتیجے، ابوبکر ،جو بعد میں حافظ ابوبکر ہوئے، ان سے دوستی ہوئی ان کے واسطے سے ان کے گھر پہونچا،اورجو کچھ ملا اسے چاٹ ڈالا،کیاملا،وہ بھی بتادوں ،تفسیر حقانی کے کچھ اجزاء،تجلی دیوبند کے بہت سے پرچے، سب کہاں سمجھ میں آتا،مگر پڑھتا سب تھا اس کی وجہ سے اسی وقت میرے معلومات بہت وسیع ہوگئے تھے۔
اس مجلس بزرگاں میں جب مقامع الحدید پوری ہوگئی توخیال آتاہے دوبارہ پھرپڑھی گئی۔اب لوگوں کوکتاب سننے کاایک چسکالگ گیا۔ان لوگوں نے حاجی صاحب سے فرمائش کی کہ کوئی اورکتاب لائیے، وہ ایک پرانی کتاب کہیں سے لائے جس کا اول