اس علاج کاذکر کرنے سے پہلے اس کا پس منظر بیان کردوں ۔میرے گھر سے لگاہواگھر گاؤں کے ایک بزرگ حافظ احمدکریم صاحب کاتھا!گاؤں میں اس وقت تک جتنے حفاظ تھے ان میں وہ سب سے بڑے تھے کئی ایک کے استاذ تھے،بعد میں توان کے یہاں سے بہت حافظ تیارہوئے ، فراغت کے بعد میں نے بھی حفظ قرآن کی سعادت انھیں کی خدمت میں حاصل کی ،وہ محض لوجہ اﷲ اپنے گھر پر پڑھایاکرتے تھے،ان کا گاؤں پر بڑااثر تھا بہت ذہین اورزبان کے تیز وطرارتھے ان کے گھر پر مغرب کے بعد مسجد کے مصلی حضرات بیٹھا کرتے تھے حقہ چڑھتاتھا ،لوگ پیتے ،باتیں کرتے گاؤں بھر کے بزرگ امام ،میرے استاذ مولوی عبدالستار صاحب بھی آکر بیٹھتے ، میرے دادااوروالد بھی بیٹھتے، مخلص اوربے ریا لوگ! مغرب کے بعد فوراًبیٹھتے،یہ نشست تھوڑی دیرکی ہوتی بس دس پندرہ منٹ،اس کے بعد لوگ کھاناکھانے گھر گھر چلے جاتے کھاناکھاکر سب لوگ آجاتے اورپھر عشاء تک یہ بیٹھک رہتی اس بیٹھک میں میں بہت پابندی کے ساتھ شریک ہوتا،ان بوڑھوں کی باتیں سنتا،انھیں یادرکھتا ،میراچچازاد بھائی محمدبلال بھی اکثر اس میں شریک رہتا۔حقہ کا تمباکو جب جل جاتا،توحکم ہوتا اورہم لوگ حقہ چڑھاتے ،یہ روزمرہ کا معمول تھا۔
گاؤں کے ایک معمر ترین بزرگ جودوسرے محلہ کے رہنے والے تھے، جاڑے کا موسم تھا ،وہ اس مجلس کے شرکاء میں نہ تھے لیکن دیکھاتوایک روز تشریف لائے ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی انھوں نے بتایاکہ اس کتاب میں بریلویوں کی خوب خبرلی گئی ہے انھیں رد بریلویت سے بہت دلچسپی تھی،اورحافظ صاحب مرحوم بھی بریلویوں کے خلاف اپنی بساط بھرتیغ برہنہ تھے ،کتاب لانے والے بزرگ حاجی محمد صابر صاحب نے فرمایاکہ میں مبارک پور سے یہ کتاب لایاہوں ۔ چاہتاہوں کہ یہ کتاب پڑھی جائے ،سب نے تائید کی لیکن کون پڑھے؟ اس سوال پر سب نے مجھے حکم دیاکہ تم پڑھو میں تو یہی چاہتاتھا اس کتاب کانام مقامع الحدید علی الکذاب العنید تھا ۔مصنف اس کے مولوی محمدحنیف صاحب رہبرؔ مبارکپوری مرحوم تھے۔