گیا،پھر جو اس میں ڈوباتوسورج ڈوبنے کے بعد ہی نکلا ،مگر کتاب پوری نہیں ہوئی ،رات بھر اسی کوخواب میں دیکھتا رہا صبح ہوتے ہی پھر پہونچا اورپوری کتاب پڑھ کر جمعہ پڑھنے گیا۔
میراایک رشتہ کا پھوپھی زاد بھائی میراہم عمر تھا،وہ درجہ تین پڑھ کر خیرآباد چلاگیا، کیونکہ وہ بریلوی تھا،دیوبندیوں کے مدرسہ میں پڑھتا تواس کا عقیدہ خراب ہوجاتا اس کے والد نے اسے ہٹاکر خیرآباد بریلویوں کے مدرسہ میں بھیج دیا اس سے میری بحث دیوبندیت اوربریلویت کے موضوع پر رہنے لگی۔مجھے اس موضوع پر کسی کتاب کے پڑھنے کا اتفاق نہ ہواتھا، کیونکہ ایسی کوئی کتاب مجھے ملی ہی نہ تھی اوربریلویوں کے مدرسوں میں ابتداء ہی سے اس کی تیاری کرائی جاتی ہے ۔اس نے جب بحث شروع کی تو میں اوٹ پٹانگ جواب دیتا وہ بھی اوٹ پٹانگ ہی بکتاتھا پھر جب اس نے محسوس کیاکہ اس طرح زیرکرنا مشکل ہے تو مجھے گھر لے گیا اورایک کتاب نکال کردی ،اس کا نام تھا ’’المصباح الجدید‘‘ مصنف تھے، حافظ ملت مولانا عبدالعزیزصاحب مدرس مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم مبارک پور ،مجھے خوب یاد ہے کہ اس نے جب وہ کتاب میرے ہاتھ میں تھمائی ،تو میں اس گھر کے اندر صحن کے بعد جو کمرہ ہے اسکے زینہ پر تھا وہیں وہ کتاب پڑھنے لگا کھڑا کھڑا تھک گیا تو بیٹھ گیا اورایک ہی مرتبہ میں پوری کتاب پڑھ گیا ،کتاب کیاتھی دیوبندیت کے اوپر حملوں کی بوچھار تھی ، میراسکون اندرسے ہل گیا ،علماء دیوبند سے بے اطمینانی کی کیفیت معلوم ہونے لگی ان کے بارے میں پہلے سے جو کچھ پڑھ رکھاتھا اوراپنے والد سے سن رکھاتھا اس کے بالکل خلاف جب معلومات سامنے آئے تودل میں آگ سی لگ گئی۔والد صاحب سے میں نے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے ڈانٹ دیاکہ تم وہاں کیوں گئے؟ اوروہ کتاب کیوں پڑھی؟ وہ سب غلط ہے،جھوٹ ہے،لیکن اس سے میری بے چینی ختم نہیں ہوئی پھروہاں جاکر میں نے ’’بہار شریعت‘‘ کا بھی مطالعہ کیا۔لیکن صرف پہلے حصے کا،باقی حصے اس نے مجھے نہیں دیئے۔ قسمت کی خوبی دیکھئے ،دل میں ایک بے قراری پیداہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا علاج بھی فراہم کردیا ۔