غرق ہوجاتا گھر سے تلاشی آتی کبھی ماسٹر صاحب نکل آتے ،ان کاگھر مکتب سے بالکل قریب تھا اورمجھے بادل ناخواستہ جاناپڑتا ،چھٹی کے بعد تویہ ہوتا،اورظہر بعد مدرسہ کھلنے سے پہلے کا دستور یہ بنایاکہ اس کے کھلنے سے آدھ گھنٹہ پہلے میں مولوی صاحب کے گھر جاتا ،کنجی ایک مخصوص کھونٹی پر لٹکی ہوتی مولوی صاحب اس وقت ظہر کی نماز کے لئے جاچکے ہوتے میں گھر کی عورتوں سے کنجی مانگ کر لاتا اورمدرسہ کھول اپنے مطالعہ میں ڈوب جاتا،جب تک ماسٹر صاحب آتے میں مطالعہ کاکافی فاصلہ طے کرچکاہوتا،مجھے اس دوران کبھی کبھی اپنے ساتھیوں کے گھروں میں جانے کا اتفاق ہوتا،تو میں وہاں بھی کتابیں ڈھونڈتارہتا اورکوئی کتاب مل جاتی تو جب تک اول سے آخر تک پڑھ نہیں لیتا قرار نہ آتا اس طرح میں بہت دیر دیر تک گھر سے غائب رہتا اور والد صاحب کو تشویش ہوتی رہتی یہ کتابیں زیادہ تر دینی موضوعات پرہوتیں کیونکہ جس ماحول میں میں نے آنکھیں کھولی تھیں وہ دیندار انہ ماحول تھا توکتابیں بھی ویسی ہی رہاکرتی تھیں ۔طبیعت میں دین کی محبت رچ بس گئی تھی تاہم میرے لئے موضوع کی کوئی قید نہ تھی درجہ چار پانچ میں ہندی کی بھی کچھ شدبد ہوگئی تھی اس لئے اب مطالعہ دونوں زبانوں میں ہونے لگاتھا ہندی کے ہلکے پھلکے رسالے اورکتابچے خوب پڑھ لیتاتھا میں ہر طرح کی کتابیں پڑھتا، اس سلسلے میں میرارہنما کوئی نہ تھا ،بس طبیعت کی موج تھی،بلکہ جنون تھا کہ ہر لکھی ہوئی چیز پڑھنی ہے،اس وقت گاؤں میں صرف ایک ہوٹل تھا اوروہ بھی صرف شام کو عصر کے وقت کھلتاتھا اورمغرب بعد بندہوجاتاتھا اس ہوٹل میں صرف پکوڑیاں چھنتی تھیں اورچائے بنتی تھی، کچھ لوگ جمع ہوتے وہاں کانپور کا اخبار’’سیاست‘‘ منگایاجاتاتھا ،میں اخبار پڑھنے ہوٹل میں پہونچ جایاکرتا ،بڑوں کے ہاتھ سے اس کا کوئی صفحہ چھوٹتا ،تو میں پڑھنے لگتا،وہ پڑھتے ہوتے تب بھی میں نگاہ اس پر جمائے رہتا اورجہاں تک بس چلتا دیکھتارہتا اسی زمانے میں جبل پور میں فساد ہوا تھا، اس کی ہولناک خبریں اس میں چھپتیں اورمیری نیند حرام ہوجاتی ،طبیعت میں تاثر کا مادہ بہت تھا۔
ایک دن اپنے ایک ساتھی کے گھر گیا،جمعرات کا دن تھا،وہاں قصہ حاتم طائی مل