ماسٹر صاحب ڈانٹیں گے ،جھڑکیں گے،یہ خوف ہوتاکہ وہ یہاں کی تمام کتابیں اٹھاکر لائبریری میں منتقل کردیں گے اوراس میں قفل لگارہتاتھا،مجھے یادہے کہ جب لڑکے پڑھائی کے علاوہ اوقات میں کوئی کھیل فٹ بال ،کبڈی وغیرہ کھیلنا چاہتے اور اصرار کرتے کہ میں بھی اس میں شریک ہوں اورمیں انکارکرتا ،تووہ یہی دھمکی دیتے کہ ماسٹر صاحب سے شکایت کردیں گے اورمجھے مجبوراً کھیل میں شریک ہوناپڑتا۔
اس طرح دوسال کے دوران میں نے چوری چھپے صادق حسین صاحب کے تمام ناول جو لائبریری میں تھے پڑھ ڈالے ان کے حسن وعشق کا باب میں نہیں پڑھتاتھا ،پھر جب دوسری کوئی نئی کتاب نہ ملتی تواسے بھی پڑھ لیتامگر اس سے دلچسپی نہ ہوئی، اس زمانے میں جاسوسی ناول کو ہاتھ لگانے کا موقع کبھی نہیں ملا کیونکہ وہ ہمیشہ دست بدست رہاکرتے تھے۔
درجہ چار اورپانچ میرے لئے تاریخی ناولوں کا دورتھا اس درسگاہ میں ایک بڑی سی پٹنی تھی، ماسٹر صاحب کی عدم موجودگی میں میں اس پرچڑھ جاتاوہاں آزادی سے پہلے کے پرانے رسالے مولوی ،نظام المشائخ، نگار ،پیشوا اورحریت بہت تھے ،پھٹے پرانے،مڑے تڑے ،نچے ہوئے ،وہ دو ایک بوروں میں بندھے رکھے تھے میں نے وہ بورے کھول ڈالے جب جب موقع ملتاان میں غرق رہتا۔
ہمارامکتب موسم کے اعتبار سے کبھی دس بجے ،کبھی ساڑے گیارہ بجے دوپہر کے وقفہ کیلئے بند ہوتا ۔ سب لڑکے چلے جاتے تو اس میں تالابند ہوجاتا مجھے ایک ترکیب سوجھی ، ماسٹر صاحب چھٹی ہوتے ہی چل دیتے ،مولوی محمد یوسف صاحب مرحوم سب کے بعد نکلتے اوروہی تالابند کرتے اورتالی اپنے گھر لے جاتے میں چھٹی ہونے کے بعد بیٹھا اپنے درجے میں پڑھتارہتا،اوران کو دیکھتا جب وہ اٹھتے تو میں بھی اٹھ جاتامگر مجھے یہ اٹھنا بہت کھلتاتھا کہ یہی تو فرصت کا وقت تھاجو چاہتا پڑھتا،ایک دن ہمت کرکے بیٹھا رہ گیا، مولوی صاحب نے مجھے بیٹھا دیکھ کر کہاکہ بندکرکے کنجی گھر پر دیدینا میری عید ہوگئی ، اب روزانہ کا یہی معمول ہوگیا وہ چلے جاتے اورمیں اندرسے مکتب کو بندکرکے کبھی پٹنی پرچڑھ جاتا اورکبھی ناولوں میں