کروں وہاں سے ہٹادیاتھا ۔ چندماہ میں کتب خانہ ضیائیہ کا ذخیرہ توتمام ہوگیا میں پڑھی ہوئی کتابوں کوپڑھتارہتا تھا قند مکررکا لطف آتاتھا اب مجھے نئے میدان کی تلاش تھی ،مکتب کی تعلیم بھی اپنی طبعی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی اورمیرے پڑھنے کا چرچابھی اہل خاندان میں پھیلتا جاتاتھا اس کا ذکر میں نے اس لئے کر دیا کہ آگے اس کے متعلق میرے بچپن کی زندگی کا ایک اہم قصہ متعلق ہے جس نے مجھے مدتوں مضطرب رکھا اس کا تذکرہ ان شاء اللہ آگے آئے گا۔
پرائمری کے دودرجے ،دوم اورسوم کی تعلیم استاذ محترم مولوی محمدیوسف مرحوم کے یہاں ہوئی تھی،مولوی صاحب بہت دیندار اوریکسو آدمی تھے بچے ان سے بہت ڈرتے تھے ، کتب خانہ ضیائیہ سے تعلق انھیں دونوں درجات تک زیادہ رہاپھر جب درجہ چہارم میں آیا توہم لوگوں کی تعلیم ایک دوسرے استاذ ماسٹر شفیع احمد صاحب سے متعلق ہوگئی کمرہ بدل گیا استاذبدل گئے ،ماسٹر صاحب بہت اچھا پڑھا تے تھے، طلبہ ان سے بہت محبت کرتے تھے وہ پڑھاتے نہیں تھے،گھول کر پلا تے تھے،مگروہ دیندارنہ تھے، ڈاڑھی منڈاتے تھے، نمازنہیں پڑھتے تھے ،بیڑی پیتے تھے،مدرسہ میں جولائبریری تھی ’’آزاد لائبریری‘‘ اس کے انچارج وہی تھے یہاں آئے توکتابوں کی ایک نئی دینا نظر آئی ماسٹر صاحب خود بھی ناولوں کے رسیا تھے اورلوگ بھی ان کے پاس کتابیں لینے اورواپس کرنے آیاکرتے تھے ماسٹر صاحب درجے میں ہوتے توواپس ہونے والی کتابیں وہیں درجے میں رکھ دیتے، میں ذکر کرچکا ہوں ناول کو ہاتھ لگانابچوں کے لئے جرم تھا ۔میں انتظار میں رہتا کہ کب ماسٹر صاحب بیڑی پینے کے لئے باہر جائیں اورکب میں یہ جرم کروں ، وہ کئی مرتبہ اٹھ کر باہر جایاکرتے اورمیں اتنی دیر میں ناول کا خاصا حصہ پڑھ لیاکرتاتھا،میں یہ جرم کرتا اوراس جرم میں اکیلا ہوتاکوئی میراساتھی نہ ہوتا ، مجھے جب میرے رفقاء درس پریشان کرناچاہتے یامیں ان کی کوئی فرمائش کبھی پوری نہ کرتایااپنی طبیعت کی تیزی کی وجہ سے ان سے کبھی لڑائی کرلیتاتوان کے پاس مجھے شکست دینے کایہ بہت آسان حربہ ہوتاکہ ہم ماسٹرصاحب کے پاس شکایت کریں گے کہ یہ ناول پڑھتاہے اس سے میں سہم جاتا، فوراً شکست قبول کرلیتا، مجھے اس کاڈر نہ ہوتاکہ