حافظ صاحب کبھی کبھی کھانابھی کھلا دیتے تب تو ظہر کے بعد وہاں سے آتا اورجب آتا تو دوایک کتابیں ساتھ لاتا ،مجھے کھیلنے اورسیر وتفریح کا ذوق بالکل نہ تھا ساتھی مجبو رکرتے، مذاق اڑاتے،توکبھی چلابھی جاتا،مگر میراجی کتابوں میں اٹکارہتا،جمعرات کو مدرسہ میں بعد نماز ظہر چھٹی رہتی میں اس روز مغرب تک ان کے کتب خانہ میں پڑارہتا،پڑھتا رہتا، دہراتا رہتا، پھر حافظ صاحب نے اپنے کتب خانہ کووہیں منتقل کرلیاجہاں وہ کر گہہ میں کپڑا بنا کرتے تھے وہاں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی میں گھنٹوں ،وہیں کھڑا پڑھتارہتا۔
اس وقت تک میں نے کوئی ناول نہیں پڑھاتھا۔بس چھوٹی چھوٹی کتابیں جو بچوں کے مناسب ہوتیں وہی ان کے یہاں زیادہ ترہوتی تھیں انھیں کو میں مکررسہ کرر پڑھتا رہتا ، کبھی کچھ نئی کتابیں آجاتیں تومیری عید ہوجاتی مجھے یاد ہے ایک روزمیں پہونچا توایک چھوٹی سی کتاب ’’ابر رحمت‘‘ نام کی رکھی ہوئی تھی، بہت خوبصورت چھپی ہوئی ،عمدہ ٹائیٹل ،بہترین کاغذ، اس کے تین یاچار حصے تھے میری خوشی کی انتہانہ رہی دوحصے تو وہیں پڑھ ڈالے ، اورباقی گھر لیتاآیا۔جماعت اسلامی والے بچوں کے لئے اس وقت تک کئی کتابیں لکھ چکے تھے انھیں ایک ایک کرکے پڑھاتھا اورکئی کئی بار پڑھا تھا۔’’ابر رحمت‘‘ کے سب حصے میں نے اتنی مرتبہ پڑھے تھے کہ تقریباً پوری کتاب حفظ ہوگئی تھی اب جبکہ ایک مدت گزر گئی ہے اس کے بہت سے مضامین یاد ہیں ۔
اسی دوران ایک روزان کے کتب خانہ میں مولانا صادق حسین سردھنوی کا ناول ’’جوش اسلام‘‘دکھائی دیا۔اسے پڑھنا شروع کیا توکھوگیا ان کے حسن وعشق کا باب تو میری فہم سے بالاتر تھا ، مگر تاریخی حصہ میں بہت دلچسپی ہوئی ،اس دن دوپہر میں مکتب نہیں گیا،نہ کھاناکھایا،مغرب تک پوری کتاب پڑھ ڈالی،گھرآیا،تو دادامرحوم نے ایک زوردار گھونسے سے تواضع کی ۔یہ پہلا ناول تھا جومیں نے پڑھا، دوسرے دن جب پہونچاتووہ ناول موجود نہ تھاغالباً فروخت ہوگیاتھا یا حافظ صاحب نے اس لئے کہ دوبارہ ناول پڑھنے کا جرم نہ