معمولی تھے مگر ولید پور اوربھیرا کے مکتبوں کیلئے ضروری کتابوں کو مہیاکیاکرتے تھے، اور اس کے ساتھ کچھ دوسری کتابیں بھی رکھتے تھے انھوں نے ایک چھوٹاسا تجارتی کتب خانہ بنارکھا تھا اور اپنے دادامیانجی ضیاء اللہ علیہ الرحمۃ کے نام پر اس کا نام ’’کتب خانہ ضیائیہ ‘‘رکھا تھا۔ان کی آمدورفت اس وقت والد کے پاس کثرت سے تھی مغرب کی نماز پڑھ کر آجاتے ، والد صاحب موسم کے اعتبار سے کبھی باہر اور کبھی بیٹھک کے اندر چارپائی بچھادیتے اورپھر دونوں محوگفتگو ہوجاتے ۔میں اپنے والد سے بے تکلف تھا،دوڈھائی سال کی میری عمر تھی کہ میری والدہ کا انتقال ہوگیاتھا ۔والد صاحب نے مجھے والدہ کی بھی شفقت عطافرمائی ،اس لئے میں حتی الامکان ان سے جدانہیں ہوتاتھا ،زیادہ وقت انھیں کے پاس گزارتاتھا ،حافظ محمد رفیع صاحب کوکتابوں سے بہت دلچسپی تھی ،ان کی گفتگو زیادہ تر کتابوں کے موضوع پر ہواکرتی تھی میں والد صاحب کے پاس بیٹھا ان دونوں کی گفتگو سنا کرتاان کی گفتگو سے مجھے بہت سی کتابوں کی معلومات ہوئی ۔کچھ دنوں کے بعد انھوں نے مجھے پہچان لیا،ایک دن مکتب میں صبح تعلیم کے بعد چھٹی ہوئی تو میں ڈرتے ڈرتے ان کے گھر پہونچ گیا، وہ مکان کے اندر کرگہ پر کپڑا بن رہے تھے اور ان کا کتب خانہ باہر کی بیٹھک میں تھا ۔میں پہونچاتو وہ اٹھ کر کتب خانہ میں آئے ،میں نے ان سے اجازت چاہی کہ کتابیں پڑھنا چاہتاہوں انھوں نے اجازت دی مگر ساتھ ہی تاکید کی کہ یہ کتابیں بیچنے کی ہیں ،نہ یہ مڑیں تڑیں نہ ان پرداغ دھبہ لگے ،بہت احتیاط سے پڑھنا ،یہ تاکید کرکے وہ اندرچلے گئے میں دیر تک بچوں کے لئے جوان کے پاس کتابچے تھے ،انھیں پڑھتارہا۔دیر ہوئی تو یہ خوف ہوا کہ والد صاحب تلاش کریں گے ،جانے کا ارادہ کرتاتھا ،مگر کتابوں کے حسن فراواں نے دامن دل کو پکڑ رکھا تھا۔لیکن خوف غالب آیا،تاہم شوق مطالعہ کی رعایت بھی ضروری تھی میں نے حافظ صاحب سے دوتین کتابیں مانگیں کہ انھیں پڑھ کر کل واپس کردونگا ۔انھوں نے اسی احتیاط کی تاکید کرکے مجھے دیدیں ،گھر آیاتومعمولی سی ڈانٹ سنی ،کھاناکھایا اوربستہ اٹھا کرمکتب کی جانب چل دیا ،پھر یہ روزانہ کا قصہ ہوگیا سارے بچے مکتب سے چھوٹتے ،توکھیلتے ،ندی میں نہاتے ، میں چھوٹتا تو سیدھا کتب خانہ ضیائیہ جاتا ،ظہر تک وہیں کھڑابیٹھا کتابیں پڑھتا رہتا،