پڑھتا، جب کوئی نیارسالہ آجاتا،تو والد صاحب کے ہاتھ تک بعد میں پہونچتا، پہلے میں ہی اسے دیکھ ڈالتا۔سب کہاں سمجھ میں آتا،مگر اکثرحصہ سمجھ میں آجاتا،گاؤں کے مکتب میں بیٹھایا گیا۔ قاعدہ بغدادی اورقرآن شریف بہت جلد پڑھ لیا۔گھر پراردوکی جتنی کتابیں تھیں سب پڑھ ڈالیں میری بڑی بہن بہشتی زیور پڑھتی تھی ،وہ سبقاً سبقاً پڑھ رہی تھی اورمیں دوسرے اوقات میں گھنٹوں اس کے مطالعہ میں غرق رہتابہت سے الفاظ کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو بہن سے پوچھتا، اس سے نہیں حل ہوتا تو والد صاحب سے پوچھتا ،انھوں نے میرے باربار کے پوچھنے سے تنگ آکر اردوکا چھوٹا سا لغت ’’جامع اللغات‘‘ خریدکر مجھے دیدیا ۔اب مجھے بہت آسانی ہوگئی ،پوچھنا میرے اوپر گراں بھی تھا ۔لغت مل جانے کے بعد مشکل الفاظ کا معنی سمجھنا آسان ہوگیا ۔چندماہ میں نے لغت کو اتنا استعمال کیا کہ اس کا بڑا حصہ مجھے حفظ ہوگیا۔اب لغت دیکھنے کی نوبت مجھے کم ہی آتی۔
گھر پر کتابوں کا جو مختصرساذخیرہ تھاوہ ختم ہوگیا تو میں انھیں کو دہرادہرا کر پڑھتا رہا ، مکتب میں ایک لائبریری تھی اس میں زیادہ تر تاریخی اورجاسوسی ناول کی کتابیں تھی ناول بچوں کیلئے شجر ممنوعہ تھا ۔پھر وہ ایک استاد کی نگرانی میں تھی ہم بچے توادھر رخ بھی نہیں کرسکتے تھے،اس کے علاوہ میری طبیعت میں ایک عیب ہے جس کامیں ابھی ذکر کروں گا ،وہ ہے حیااورمحجوبیت کا،وہ میری طبیعت میں کچھ زیادہ ہے ،بڑوں کے سامنے میری زبان کھل ہی نہیں سکتی تھی باوجود یکہ مجھے پڑھنے کا شوق فراواں بلکہ جنون تھا اوراس کی وجہ سے کبھی کبھی کوئی کتاب کسی سے مانگ بھی لیتاتھا مگر میرے لئے یہ مجاہدہ ٔ عظیم تھا۔ اس لئے لائبریری میں قدم رکھنے کی کبھی ہمت نہ ہوئی ،بس پڑھی ہوئی کتابیں دہراتارہا۔
یہ ذکر اس وقت کا ہے جب میری عمرسات اورگیارہ سال کے درمیان تھی ۔ گیارہ سال کی عمر میں میں نے پرائمری درجہ پانچ کا متحان دیا، اس پر مکتبی تعلیم ختم ہوئی ۔
اس زمانے میں میرے والد صاحب کے ایک گہرے دوست تھے، حافظ محمد رفیع صاحب مرحوم ،یہ ہمارے گاؤں سے متصل محلہ نیاپورہ کے رہنے والے تھے۔ پڑھے لکھے تو