لیکن اس کے باوجود آج قصد کرلیاہے کہ جو کچھ کتابوں کے مطالعہ کے سلسلے میں مجھ پر بیتی ہے اسے کہہ ڈالوں ،ڈرتابھی جائوں ،شرماتابھی جائوں ،اورکہانی بھی چلتی رہے، انسان کی زندگی ان دونوں سے کب خالی ہوتی ہے ،آخرزندگی کی کہانی چلتی رہتی ہے۔پھر میرے مطالعہ کی داستان بھی سنی جاتی رہے ،کیاحرج ہے؟
جس عزیز نے مجھ سے فرمائش کی ہے وہ توضرورپڑھے گا ،کسی اورسے میرامطالبہ نہیں ہے میں لکھوں گا میں ہی پڑھوں گا،ہر آدمی کواپنے ماضی سے محبت ہوتی ہے مجھے بھی ہے، سب کسی نہ کسی طرح اپنے ماضی کو دہراتے ہیں ،کوئی زبان سے ،کوئی قلم سے ،میرے سامنے طلبہ کی جماعت بیٹھتی ہے ،تو میں انھیں سناتاہوں کاغذ پر لکھ دوں گا،تومیں خود سنوں گا،اور سنانے اورسننے میں بڑافرق ہے ،آپ خود شعر پڑھئے اوراسی کوکسی دوسرے سے سنئے،آپ کو فرق محسوس ہوجائے گا،تو میں اپنی کہانی کاغذ کے حوالے کردوں تویہ مجھے سنائے گا اورکوئی دوسرانہیں سنا سکتا ۔ پس میں خود محظوظ ہوں گا اورلکھنے کی قیمت مجھے مل جائے گی۔
میں نے کب سے مطالعہ شروع کیا ہے،مجھے اچھی طرح یادنہیں ،میرے گھرانے میں مطالعہ کاکوئی ذوق نہیں تھا ۔معمولی پڑھے لکھے لوگ تھے ،دادامرحوم اردوکی صرف ایک کتاب بہشتی زیور پڑھاکرتے تھے اس سے انھیں شغف تھا ۔والد محترم شاعرتھے شاعری کے اثر سے کچھ ادبی رسالے اوراپنے دینی ذوق کی و جہ سے کچھ مذہبی پرچے منگایاکرتے تھے، اور فرصت کے اوقات میں انھیں پڑھاکرتے تھے ،مجھے جب اردوپڑھنے کی کچھ شدبدہوئی ، اور مجھے کچھ یادآتاہے کہ میری عمر اس وقت کل سات سال کی رہی ہوگی ۔میری ولادت ۵؍فروری ۱۹۵۱ء کی ہے اورمجھے اچھی طرح یادہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ کی وفات پر والد صاحب نے دوشعر کا ایک قطعہ کہہ کر اپنی بیاض میں لکھا تھا۔اورمیں نے اسی وقت اس کو پڑھ لیاتھا ۔مولاناکی وفات ۱۹۵۷ء میں ہوئی تھی،اس وقت میں نے وہ دونوں اشعار بے تکلف پڑھ لئے تھے ،بہر حال جب پڑھنے کی شد بد ہوئی ، تو میں نے اپنے اندر مطالعہ اورعلم کی شدید پیاس محسوس کی۔ ہرلکھاہواکاغذمیں اٹھا اٹھاکر