ہے ، یہ گاؤں گھوڑمارا سے ۳؍۴؍ کلومیٹر شمال میں ہے ، میں جب شعبان میں جسی ڈیہہ میں اتراتھا تو اپنے طلبہ کے ساتھ ایک معمر اور دیندار شخص کوبھی پایا تھا ، جسی ڈیہہ میں دیوگھر کی گاڑی کے انتظار میں ڈیڑھ ،دوگھنٹے رکنا تھا ، میں نے دیکھا کہ وہ صاحب وضو کرکے تہجد پڑھنے میں مشغول ہوگئے ، مجھے ان کی نیکی اور دینداری بہت بھلی معلوم ہوئی ، چہرے پر عبادت کانور جگمگارہاتھا ، تہجد سے فراغت کے بعد وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئے ، میرے بارے میں طلبہ انھیں پہلے سے بتاچکے تھے ، میں نے ان کا تعارف چاہا تو معلوم ہوا کہ ان کانام محمد عثمان ہے ، مورنے کے رہنے والے ہیں ، کوئلے کی کان میں ملازمت کرتے ہیں ، یہ بھی اپنے گھر واپس جارہے ہیں ، پھر گھوڑمارا تک ساتھ رہے ، انھوں نے بڑے اصرار کے ساتھ مورنے آنے کی دعوت دی ، عید کے بعد جب مدرسے کی واپسی ہوئی تو دوروز کے لئے مورنے بھی جانا ہوا، قیام انھیں محمد عثمان صاحب کے گھر پر ہوا۔ یہ گاؤں پہاڑیوں کے بیچ میں ہے ، چاروں طرف پہاڑیاں ہیں ، درمیان میں مسلمانوں کا یہ گاؤں ہے ، میں نے یہاں کے مسلمانوں کو دینداری کے آثار میں کچھ زیادہ پایا، بہت سے لوگ ذاکر وشاغل محسوس ہوئے ، معلوم ہوا کہ چندسال پہلے حضرت مولانا سیّد اسعد صاحب مدنی علیہ الرحمہ ادھر تشریف لائے تھے اوربہت سے لوگ ان سے بیعت ہوئے تھے ، یہ گاؤں سڑک سے قریب ہے ، وہاں جانا آسان بھی ہے، لیکن معلوم ہوا کہ مولانا موصوف یہاں کے بعد نانی ڈیہہ بھی تشریف لے گئے تھے ، اﷲ ہی جانتا ہے کہ کس مشقت سے وہاں پہونچے ہوں گے ، وہاں بھی کچھ لوگ بیعت ہوئے تھے ، اور ان کے ہاتھ میں بھی تسبیح نظر آتی تھی ، اس کوردہ علاقے میں مولانا کا تشریف لے جانا محلِ حیرت تھا ، مگر وہ جس قدر مجاہدے کے انسان تھے اس کو دیکھتے ہوئے کوئی حیرت کی بات نہیں ۔ مورنے میں ان کے اثرات میں نے واضح طور پر پائے ، دودن میرا قیام وہاں رہا۔
پونے دوماہ کے اس قیام اورقدرے جدوجہد کے بعد حق تعالیٰ کی توفیق سے اس علاقہ میں دین کا رجحان پیدا ہوا ، چنانچہ ۱۰؍شوال کو جب میں وہاں سے واپس ہوا ، تو بچوں