میل دور ڈاکٹر کے یہاں لے جانا پڑا ، پیسے بھی خرچ ہوئے، تکلیف بھی ہوئی اور بچے بھی زندہ سلامت نہ رہے ، پھر پیدائش ہونے والی ہے ، پھر وہی خوف لاحق ہے کہ عورت کو دوردراز کسی ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑے گا ، اور اﷲ ہی جانے کتنی زحمت ہوگی ، کتنے پیسے خرچ ہوں گے ، میں غریب آدمی ہوں ، اس نے مجھ سے تعویذ مانگا ، میں گھبراگیا ، میں نے اب تک کوئی تعویذ نہیں لکھاتھا ، مگر اچانک مجھے حضرت گنگوہیؒ کا مذکورہ بالا تعویذ یاد آیا تو میں نے تسہیل ولادت اور زندہ رہنے کی دعا لکھ کر تعویذ بناکر دیدیا، اﷲ کا کرنا ایسا ہوا کہ نہایت سہولت سے ولادت بھی ہوگئی اور بچہ بھی تندرست اور زندہ رہا ۔ پھر یہ سلسلہ بڑھتا ہی رہا ، وہاں پر ایک دستور سا بن گیا تھا کہ روزانہ فجر کی نماز کے بعد کچھ آیات پڑھ کر پانی پر دم کردیا کرتا تھا اور وہ پانی لوگ اپنی اپنی ضروریات کیلئے لے جاتے تھے ، اﷲ کی مشیّت سے ان کی حاجت براری ہوجاتی تھی ۔ میں شوال میں لوٹ کر مدرسہ دینیہ آگیا، وہاں حضرت مولانا عبد الحمید صاحب اعظمی نظام آبادیؒ تشریف لائے ہوئے تھے ، انھوں نے حالات پوچھے ، میں نے اجمالاً وہاں کے حالات بیان کئے اور ساتھ ہی تعویذات کی ضرورت کا ذکرکیا ، مولانا نے مجھے ایک کاپی دی اور فرمایا کہ اس میں سے اپنی ضرورت کے تعویذات نوٹ کرلو ، اس پر انھوں نے ’’ فیوضِ مدنی ‘‘ کا عنوان لکھ رکھا تھا ، مجھے چونکہ تعویذات کا ذوق نہیں ہے لیکن ضرورت اور مجبوری تھی اس لئے صرف خاص خاص تعویذات نقل کرلئے ، جب یہ تعویذات نقل کرکے کاپی میں نے انھیں واپس کی تو بڑے اہتمام کے ساتھ انھوں نے ان تعویذات کی مجھے اجازت دی ، میں ان سے کہتا رہا کہ اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور نہ مجھے یہ کام کرنا ہے ،اور نہ مجھے اس سے کوئی مناسبت ہے ، مگر ازراہِ شفقت انھوں نے مجھے ڈانٹا اور زبردستی اجازت تھوپ دی ، مجھے کیا معلوم تھا کہ ان کی یہ اجازت رنگ لائے گی اور جس چیز سے مجھے قطعاً مناسبت نہیں ہے اسی کے ساتھ میری بدنامی ہوگی۔
٭٭٭٭٭
اسی سفر میں نانی ڈیہہ کے علاوہ ایک اور گاؤں میں جانا ہوا، اس کانام ’’ مورنے ‘‘