کی ایک معتد بہ تعداد میرے ساتھ مدرسہ دینیہ غازی پور آئی ، یہ بچے نوشت وخواند سے بالکل نابلد تھے ، قاعدہ بغدادی پڑھنا بھی ان کے لئے مشکل امر تھا ، لیکن ان کے گھر والوں نے بہت شوق سے انھیں میرے حوالے کیا ۔ اﷲ کے فضل نے کرم کیا، اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ بچے چل نکلے ، مجھے ان بچوں کی بڑی قدر تھی ، ان پر میں بہت محنت کرتاتھا ، جو طلبہ مجھے وہاں لے گئے تھے ، وہ اب بفضلہ تعالیٰ جلالین شریف اور ہدایہ اولین کی جماعت میں پہونچ گئے تھے ، میرے ان کے یہاں جانے اور کام کا رنگ دیکھنے کے بعد ان کے حوصلے بہت بلند ہوئے ، انھیں پڑھنے کا مزید شوق ہوا۔ دل وجان سے محنت میں لگ گئے ، اس سال یہاں تعلیم کی تکمیل کرکے انھیں دیوبند جانا تھا ، میں انھیں اس کے لئے تیار کررہاتھا ، یہ تعلیم میں بھی محنت کرتے تھے اور خدمت بھی بہت شوق سے کرتے تھے ، مجھے ان سے اتنی مناسبت اور محبت ہوئی ، جیسے درس وتدریس کاکام میں نے انھیں طلبہ کے لئے شروع کیا ہو۔
واپسی کے بعد ابتداء ہی سے پروگرام بنتارہا کہ بقرعید میں پھرچلنا ہے ، مدرسہ میں دس دن تعطیل ہوتی ہے ، میں نے ان طلبہ کو ساتھ لیا اور بقرعید سے تین چار روز پہلے پہونچ گیا، مجھے دیکھ کر لوگوں میں دین کا جوش خروش پیدا ہوا۔ سب لوگ مسجد میں جمع ہونے لگے ، میری تقریروں اور مجلسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ، بوڑھے بھی ، جوان بھی ، نوجوان بھی ، بچے بھی ، سب ذوق وشوق سے شریک ہوتے ، باتیں سنتے ، اپنی سیدھی سادی زبان میں باتیں بھی کرتے ۔ ان مجلسوں سے لوگوں میں دینداری بیدار ہوتی، اطراف کے دور ونزدیک کے مسلمان بھی کبھی کبھی آتے ، خود میرے اوپر ان دنوں یکسوئی کا غلبہ تھا ، یہاں وہاں آنے جانے کی ہمت نہ ہوتی ، لوگوں کی بہت خواہش ہوتی کہ کھانے کی دعوت کریں ، مجھے دعوتوں میں جانے سے مناسبت کیا معنی، سخت وحشت تھی، لیکن لوگ محبت سے بلاتے ، میں شرط لگاتاکہ نماز کی پابندی کرو ،تو قبول ہے ، اس طریقۂ عمل سے بہت سے وہ لوگ جو نماز اور مسجد کی طرف رخ نہیں کرتے تھے ، نمازی ہوگئے۔
میرے ساتھ ان تینوں عزیزوں کا تعاون مسلسل رہا ، یہ اپنے گھر رہ کر بھی اپنے گھر