سال پورا کرکے مدرسہ دینیہ سے علیٰحدگی اختیار کرلی ۔ میری علیٰحدگی کا صدمہ مولیٰ صاحب کو بہت ہوا ۔ مگر وہ بھی مجبور تھے ، اب ان کے قویٰ مضمحل ہوگئے تھے ، میرے ہٹنے کے بعد مدرسہ دینیہ میں بکھراؤ پیدا ہونا شروع ہوگیا ۔عزیز صاحب نے اس بکھراؤ کو بہت روکنا چاہا مگر وہ قابو نہ پاسکے ، مولانا عبد الرب صاحب بھی چلے گئے ۔ تاہم مولیٰ صاحب کو تسلی تھی کہ قاری شبیر احمد صاحب اور مولانا صفی الرحمن صاحب موجود ہیں ۔ لیکن طلبہ کی تعداد کم ہوگئی ، تو انھوں نے حفظ کابھی ایک درجہ شوکت منزل میں منتقل کردیا ۔ مگر دھاگا ٹوٹ چکا تھا ، دانے بکھر رہے تھے ۔ تین چار سال کے اندر قاری شبیر احمد صاحب اور مولانا صفی الرحمن صاحب بھی علیٰحدہ ہوگئے ۔ حاجی عبدالاحد صاحب بھی معذور ہوکر خدمت سے سبکدوش ہوگئے ۔ اب نئے لوگ آگئے ، مگر مدرسہ کی بہارنہ لوٹ سکی ،‘‘
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مدرسہ دینیہ تعلیم وتدریس کے اعتبار سے ، فکر وخیال کے لحاظ سے ، اسلوب وانداز کے لحاظ سے دارالعلوم دیوبند کا پیروبلکہ مبلغ تھا ، جمعیۃ علماء کی چھاؤنی تھا ۔ جمعیۃ علماء ہند کے نہ جانے کتنے منصوبے مدرسہ دینیہ میں بنے ہیں ، مولانا سید احمد ہاشمی صاحب کی تربیت کا آغاز یہیں سے ہوا ۔ اور بالآخر وہ جمعیۃ علماء ہند کی نظامت علیا تک پہونچے ، خود جناب عزیزالحسن صاحب صدیقی عرصہ تک مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند کے ممبر رہے ، عزیز صاحب جمعیۃ کی شناخت بن گئے تھے ، اور جمعیۃ ان کی علامت ! لیکن جس مدرسہ کا یہ حال رہا ہو ،ا س کا مسلک ومشرب اتنا واضح اور نمایاں رہا ہو ، اور یہی اس کا امتیاز واختصاص رہا ہو ، کیا حیرت کی بات نہیں ہے کہ اب وہی مدرسہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کا ضمیمہ بن گیا ہے ، اور اس کا مہتمم جمعیۃ کے کیمپ سے اٹھ کر رابطہ کمیٹی کے اسٹیج پر پہونچ گیا ہے ، جو فکر وعمل کے اعتبار سے جمعیۃ سے بہت دور اور جماعتِ اسلامی سے ہم آغوش ہے ۔ وفاداریاں تبدیل ہوگئیں ، صرف اشخاص سے نہیں ، دکھ کی بات یہ ہے کہ نظریہ ٔ وعقیدہ میں تبدیلی کا احساس ہورہا ہے ، اشخاص وافراد سے تعلق ٹوٹتا جڑتا رہے ، یہ بات زیادہ اہم نہیں ہے ، لیکن فکرونظر سے بھی وفاداری تبدیل ہوجائے ، یہ بات حیرت کی ہے وہ بھی جناب عزیزالحسن صاحب