مدرسہ دینیہ غازی پور۔۔۔۔۔ جہاں سے الہ آباد گئے تھے ۔۔۔۔۔کے ناظم تعلیمات رہے۔ الہ آباد سے دوبارہ ۱۹۸۱ء میں غازی پورآئے ، اور ۱۹۸۶ء تک یہاں قیام رہا، اور یہی دور مدرسہ دینیہ غازی پور کا سب سے زریں دور ہے، مولانا لکھتے ہیں ـ:
’’چارسال کے بعد میری واپسی ہوئی ، اب مدرسہ خاصا ترقی کرچکا تھا ۔ مدرسہ دینیہ کی پُرانی عمارت طلبہ واساتذہ کے لئے تنگ پڑ رہی تھی ، عزیز صاحب کی جدجہد سے دریائے گنگا کے عین ساحل پر ایک پُرانی وسیع و عریض بلڈنگ میاں پورہ میں وقف ہوئی ۔ یہ بلڈنگ ڈاکٹر شوکت اﷲ انصاری کی تھی جو مشہور قومی رہنما ڈاکٹر مختار احمدصاحب انصاریؒ کے داماد تھے ، ڈاکٹر انصاری مرحوم کی بھتیجی زہرہ بیگم ان کی رفیقہ ٔ حیات تھیں ، زہرہ بیگم نے تمام ورثہ کی اجازت سے اسے مدرسہ دینیہ کے نام وقف کردیا ۔ مدرسہ میں وقف ہونے کے بعد اس کا نام شوکت منزل رکھ دیا گیا ۔ اب عربی شعبہ شوکت منزل میں منتقل کردیا گیا ۔ یہاں مدرسہ دینیہ کو تعلیمی اعتبار سے بڑا عروج حاصل ہوا ۔ یوپی کے اضلاع مشرقی مدارس میں اس کا خاص وقار قائم ہوا ۔ بڑے اچھے اچھے طلبہ یہاں سے تعلیم حاصل کرکے دارالعلوم دیوبند گئے ۔اور آج ان میں سے بہتیرے تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کی فضا پر چھائے ہوئے ہیں ۔
یہ سلسلہ چار سال پھر متواتر قائم رہا ۔ مگر اس ماحول کوپانچویں سال میں نظر لگ گئی کچھ غلط فہمیاں ، کچھ بد گمانیاں پیدا ہوئیں ۔ مولیٰ صاحب کو اس کا بڑا دکھ ہواتھا انھوں نے بہت کوشش کی کہ بدگمانیاں دور ہوجائیں ۔ مگر وہ کامیاب نہ ہوئے ، مدرسہ کے مہتمم کی طبیعت کچھ بدلی بدلی محسوس ہوئی ۔ مجھے ایسے لگا کہ مجھ سے دوری بڑھتی جارہی ہے ۔ میں اگر مدرسہ دینیہ میں رہنے پر اصرار کرتا تو بدمزگی کا دائرہ پھیلتا ، میرا ذہنی طور پر عرصہ سے ، جب سے میں نے تدریس کے لئے مدرسہ میں قدم رکھا ہے ، یہ عہد ہے کہ نزاع کسی سے نہیں کرنی ہے ، خواہ اس کے لئے عزت وجاہ اور راحت وآرام کی کتنی ہی قربانی دینی پڑے ۔ مولیٰ صاحب(مشہور عالم مولانامحمدابوبکرغازی پوریؒ کے والدماجد) اور دوسرے احباب و مخلصین مجھے بہت روکتے رہے ، مگر میں نے پانچواں