صدیقی کے حق میں !
۱۹۸۶ء میں ریاض العلوم گورینی تشریف لے گئے ، جہاں چار سال تک قیام رہا۔ وہاں چار سال کے بعد کچھ ایسے احوال پیش آئے کہ مولانا نے گورینی کو خیرباد کہہ دیا ،اور شوال ۱۴۱۰ھ (۱۹۹۰ء) میں اپنے استاذ حضرت مولانا محمد مسلم صاحب بمہوری علیہ الرحمہ کے حکم پر شیخوپور تشریف لے گئے ، جہاں آپ نے ۲۴؍ سال گزارے، یعنی پوری تدریسی زندگی کا نصف سے زائد حصہ ! اس دوران آپ نے وہاں لائق وفائق اور مخلص اساتذہ کو جمع کردیا ،جس کے نتیجہ میں تعلیم وتعلم اوراخلاق وتربیت کی ایسی فضاقائم ہوئی کہ یہ ادارہ حضرات اہل علم کے لئے باعث رشک بن گیا ، اس کی یہ نیک نامی اورناموری اگرعدل وانصاف کی نگاہ سے دیکھا جائے تو تمامتر حضرت مولانا کی رہین منت ہے، مولانا کی خدمات اس ادارہ کے گوشہ گوشہ ، چپہ چپہ سے عیاں ہیں ۔اب حضرت مولانا دنیا میں نہیں رہے ، لیکن ان کے جاتے ہیں زمین وآسمان اس طرح بدل جائیں گے ، اس کا اندازہ نہ تھا ، لوگوں کی وفاداریاں تبدیل تو ہوتی ہیں لیکن اس طرح، اس کا گمان نہ تھا ، دنیا جانتی ہے کہ شیخوپور مولانا کی آمد سے پہلے ایک مکتب سے زیادہ کچھ نہ تھا جیسا کہ اس کے مضافات کے بہت سے مکتب ہیں ، مولانا ہی کا فیض تھا کہ اسے ایک جامعہ میں تبدیل کردیا ، اور ساری دنیا اس کی معترف ہے ، خود ان کا دل بھی ان کی خدمات کا معترف ہے جو آج اپنی تحریروں کے ذریعہ سیاہ کو سفید ثابت کرنے پر تلے ہیں ، حضرت مولانا اور ان کی خدمات کوحرف غلط کی طرح مٹانے کی کوشش جاری ہے،اور یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش جاری ہے کہ مولانا نے وہاں کی تعمیروترقی میں کوئی خاص کردار نہیں اداکیا،مدرسہ شیخ الاسلام شیخوپورکی امسال کی روداد میں ایک مضمون پڑھ کرجو شاید اسی لئے لکھوایاگیاہے اس کا بہت شدت سے احساس ہوا، اور امسال کے جلسہ میں پڑھی گئی رپورٹ تو احسان فراموشی کا بدترین نمونہ تھی، کہ کہیں بھول سے بھی اس محسن کانام نہیں لیا گیا جس کی رہینِ منت مدرسہ کی یہ تمام بہاریں اور رونقیں ہیں ، ۔