سریاں ، یہ حلقۂ مبارکپور کے مواضعات ہیں ۔ مبارک پور کے شمال ومغرب میں انجان شہید ، اشرف پور، چھیہیں ، چھچھوری، نور الدین پور ، بلیاکلیان پور، محی الدین پور، شیخوپور کے طلبہ بہت ہوتے تھے ، ان طلبہ میں بیشتر سے محبانہ تعلقات قائم ہوئے۔ جمعرات کو دوپہرکی ہلکی پھلکی تعلیم کے بعد جب جمعہ کی چھٹی ہوتی، تو ابتدادوسالوں میں گھر کی محبت غالب تھی ، کوئی مجبوری نہ ہوتی تو ہر ہفتہ گھر چلا جایا کرتا بعد کے دوسالوں میں طلبہ کی دوستی میں اور ان کی فرمائش پر بکثرت انجان شہید اور اس کے اطراف کے مواضعات میں جاتارہتا، بالخصوص جب مٹر کی پھلی میں دانے پڑتے، کھیتوں میں گنے تیار ہوتے، اور کلہاڑے جاگتے تب بکثرت جانا ہوتا ، اس وقت تقریر کی صلاحیت بھی آچلی تھی، چنانچہ ان گاؤں میں مہمانی کی بہار بھی ہوتی، جمعہ میں تقریریں بھی کرتااور گاؤں والوں کی محبت کے ذائقے سے بھی محظوظ ہوتا۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ طالب علمی کے خاتمے کے ایک مدت بعد اسی علاقہ میں مجھے تدریس کے لئے مقیم ہونا پڑے گا، طالب علمی کے زمانے میں اس علاقے میں مجھے بہت محبت ملی، اور میں نے محبت کی ، شاید اسی کا اثر ہے کہ بیس سال سے زائد مدت سے یہیں جو کچھ بن پڑرہا ہے ، دین کی خدمت کررہاہوں ۔
یادش بخیر! میرے رفیق درس ، عمر میں مجھ سے بڑے اور ذہانت میں مجھ سے بڑھ کر ، ایک سنجیدہ اور متین شخصیت حافظ الطاف حسین صا حب سے بہت گہرا تعلق رہا، ان کے ساتھ ان کے گاؤں محی الدین پور بارہا گیا ، تقریریں کیں ، ان کے گھر کاایک فرد بن کر رہا۔ اس وقت اسی گاؤں کے منشی اقبال احمد صاحب علیہ الرحمہ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور میں شعبہ پرائمری میں ہیڈ ماسٹر اور میرے مبارکپوری ساتھیوں کے استاذ تھے ، وہ بھی بہت محبت کا معاملہ کرتے تھے، ان کے بڑے بھائی عفان خاں بھی مہربان تھے ، محی الدین پور ، شیخوپور سے متصل گاؤں ہے، جب میں یہاں تدریس کے لئے آیا ،توعفان خاں اسی سابق اندازِ مشفقانہ سے ملنے آئے اور اس وقت کادور یاد کرتے رہے، اور اصرار کرتے رہے کہ میں