میں اپنی اس تحریر کا اختتامیہ مولانا ہی کی ایک تحریر بناتا ہوں جو انھیں نے میرے والد ماجد حاجی عبد الرحمن صاحب کے متعلق لکھی تھی:
ــ’’ اﷲ تعالیٰ ان کی قبر کو رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّـۃِ بنائے ۔ مغفرت کی دلنواز ادائیں ہمدم وہم ساز رہیں ، نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعُرُوْسْ کی صدائے روح پروران کو لوریاں دے ، عفو ودرگذر کا آب زلال تمام خطاؤں اور غلطیوں سے دھوکر پاک وصاف کردے ۔‘‘ آمین یارب العالمین
پسماندگان میں اہلیہ محترمہ، سات صاحبزادگان (حافظ محمد عارف ، حافظ محمد عادل، مولاناحافظ محمد عابدقاسمی،مولانا محمد عامرقاسمی، مولاناحافظ محمدراشدقاسمی، مولاناحافظ محمد عرفات اعظمی، اور محمد احمدسلّمہ)اورتین صاحبزادیاں ہیں ، جن کا نکاح بالترتیب مفتی اعجاز احمد قاسمی ، مولانا ابرارالحق قاسمی اور مولوی فیض الحق قاسمی زیدمجدہم سے ہوا، ان کے علاوہ تلامذہ ومسترشدین ، متوسلین ومنتسبین کی ایک جماعت ہے ۔اﷲ تعالیٰ سب کو صبر جمیل واجرجزیل مرحمت فرمائیں اور سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھیں ، اور اپنی مرضیات پر چلائیں ، اورحضرت مولانا جن کی زندگی کا مشن یہ تھا کہ :
’’میرے تلامذہ ومتعلقین اﷲ کے مخلص بندے ، رسول کے سچے امتی، شریعت الٰہی کے علمبردار اور دین متین کے صحیح حامل وپاسدار بنیں ‘‘۔ اسی کے لئے انھوں نے اپنی پوری زندگی تج دی ، ان کے دل میں یہ تڑپ اور تقاضا ہمہ وقت موج زن رہتا تھا کہ ’’ اہل ایمان اپنے نفس ، اپنی طبیعت اور اپنے گرد وپیش کے مختلف تقاضوں کو فنا کرکے ، ان سے منہ موڑ کر محض اﷲ ورسول کی اطاعت ووابستگی کے لئے یکسو ہوجائیں ۔ زندگی کا مرکز ومحور صرف وہ ہو جس کی دعوت اﷲ کے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اﷲ انے دی ہے ، اس کے خلاف جتنی راہیں ہیں ، سب سے قطعی اجتناب کیا جائے ۔‘‘
اﷲ تعالیٰ ہمیں بھی دین کی یہی فکر عطا کرے اور اس راہ پر چلنا آسان فرمائے اور حضرت مولانا نے اپنی اخیر زندگی میں جس ادارے ( سراج العلوم چھپرہ) کو پروان