دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن آج خطابت کاانداز بدلا ہواتھا، اب ملتجیانہ لب ولہجہ کی جگہ داعیانہ آہنگ تھا، میں لوگوں کے چہروں پر اپنی تقریر کی کامیابی وناکامی کی لکیریں پڑھنے کے بجائے ان کے دلوں میں اترجانے کا عزم رکھتا تھا، میں نے بڑھ کر اپنی قوم کو للکارا تھا کہ رسول کے اتباع کے بغیر دنیا کا یہ جھوٹا غازہ ، جو آج فریب نظر بناہوا ہے، اتر جائے گا۔ اعتکاف کی ایسی تاکیدی سنت اور اس سے اس درجہ سرد مہری! اس تقریر کا اثر لوگوں نے کیا لیا، اس کو معلوم کرنے کی کوشش میں نے آج تک نہیں کی، کیونکہ داعی جب اپنی بات پوری قوت سے کہہ دیتا ہے تو اسے کوئی چیز اس یقین سے روک نہیں سکتی کہ تیر نشانہ پر بیٹھ گیا ہے ، میں نے چہروں سے تاثر معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی، میں نے تبصروں پر کوئی توجہ نہ دی، میں نہیں جانتا کہ خلوتوں اور جلوتوں میں ، میرے اس بظاہر رِندانہ خطاب پرکیا کیا رائیں قائم کی گئیں ، تاہم اتنا دیکھ رہاہوں کہ اس سال کے بعد اب تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رمضان کا عشرۂ اخیرہ ، اس متبرک سنت کی تعمیل سے خالی رہ گیا ہو۔فالحمد ﷲ وماأنا بشیٔ
وقت کی لمبی زنجیرماضی کی وادیوں میں سمٹی چلی جارہی ہے ، مستقبل سرپٹ دوڑتا چلا آرہا ہے، ۲۵؍ رمضان کے بعد ۷؍ شوال کے آنے میں دیر نہیں لگی، اس قلیل وقفے میں آرزووں ، امنگوں کے قافلے در قافلے یکے بعد دیگرے دل ودماغ کی وسعتوں میں اترتے اور کوچ کرتے، نہ جانے کتنے ولولے ، طبیعت میں حوصلہ مندیوں کے طوفان اٹھاتے، اور آرزووں کا جادو جگاتے، میرا پورا وجود ان سحر طرازیوں کے سیلاب میں غرق تھا ، تخیل کی جولانی، سفر کی ، منازل سفرکی ، دیوبند کی ، دارالعلوم دیوبند کی، وہاں کے اساتذہ وطلبہ کی ، عجیب وغریب تصویریں بناتی اور مٹاتی رہتی، میں سوچا کرتا کہ اﷲ اﷲ! دارالعلوم دیوبند کیسا ہوگا؟ وہاں کے اساتذہ اور علماء کس شان کے ہوں گے ؟ بعض حضرات سے تو پہلے سے واقفیت تھی، مگر اکثر لوگ اَن جانے تھے ، دل تھراتاتھا کہ امتحان میں کیا ہوگا؟ مدرسہ احیاء العلوم تو چھوٹا مدرسہ ہے، اس کا ماحول محدود ہے، تھوڑے طلبہ ہیں ، یہاں تو سکہ جم جاتا تھا ، مگر دارالعلوم! اﷲ اکبر! پورے ہندوستان کی تمام تر چھوٹی بڑی علمی ندیاں اور نہریں ، اسی